کلام محمود مع فرہنگ — Page 147
57 ئیں ترا کر چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا یاں نہ چلاؤں تو چلاؤں کہاں تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر کسی کے آگئے اور پھیلاؤں کہاں جاں تو تیرے در پہ قرباں ہو گئی سر کو پھر میں اور ٹکراؤں کہاں کون غم خواری کرے تیرے سوا بار فکر و حُزن لے جاؤں کہاں دل ہی تھا سو وہ بھی تجھ کو دے دیا اب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں بڑھ رہی ہے خارش زخم نہاں کس طرح کھجلاؤں کھلاؤں کہاں کثرت عصیاں سے دامن تمر ہوا ابر اشک تو یہ برساؤں کہاں 146 احمدی جنتری 1922 دسمبر 1921ء