کلام محمود مع فرہنگ — Page 148
58 طور پر جلوہ کناں ہے وہ ذرا دیکھو تو حُسن کا باب کھلا ہے بخدا دیکھو تو رُعب حُسن شہِ خوباں کو ذرا دیکھو تو ہاتھ باندھے ہیں کھڑے شاہ و گدا دیکھو تو اپنے بیگانوں نے جب چھوڑ دیا ساتھ میرا وہ میرے ساتھ رہا اس کی وفا دیکھو تو عاقلو ا عقل پر اپنی نہ ابھی نازاں ہو ང་ پہلے تم وہ زنگیہ ہوش ربا دیکھو تو ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو ! زورِ دُعا دیکھو تو ہیں تو معشوق مگر ناز اٹھاتے ہیں میرے جمع ہیں ایک ہی جائسن و وفا دیکھو تو عاشقو ! دیکھ چکے عشق مجازی کے کمال آب مرے یار سے بھی دل کو لگا دیکھو تو 147