کلام محمود مع فرہنگ — Page 143
55 ساغر محسن تو پُر ہے کوئی کے خوار بھی ہو ہے وہ بے پردہ کوئی طالب دیدار بھی ہو وصل کا لطف تبھی ہے کہ رہیں ہوش بیجا دل بھی قبضہ میں رہے پہلو میں دلدار بھی ہو رسم مخفی بھی رہے اُلفت ظاہر بھی رہے ایک ہی وقت میں اخفا بھی ہو اظہار بھی ہو عشق کی راہ میں دیکھے گا وہی روئے فلاح جو کہ دیوانہ بھی ہو عاقل د ہشیار بھی ہو اُس کا در چھوڑ کے کیوں جاؤں کہاں جاؤں میں اور دُنیا میں کوئی اس کی سی سرکار بھی ہو ہمسری مجھ سے تجھے کس طرح حاصل ہو عدو حال پر تیرے او ناداں ! نظر یار بھی ہو بات کیسے ہو مُؤ جو نہ ہو دل میں سوز روشنی کیسے ہو دل مُنبَط اتوار بھی ہو 142