کلام محمود مع فرہنگ — Page 142
54 آریوں کو میری جانب سے منائے کوئی ہو جو ہمت تو میرے سامنے آئے کوئی مرد میدان بنے اپنے دلائل لائے گھر میں بیٹھا ہوا باتیں نہ بنائے کوئی آسمانی جو شہادت ہو اسے پیش کرے یونہی بے ہودہ نہ بے پر کی اڑائے کوئی سچا مذہب بھی ہے پر ساتھ دلائل ہی نہیں ایسی باتیں کسی احمق کو سُنائے کوئی ہے وہ میاد جسے قید سمجھ بیٹھے ہیں ان کی عقلوں سے یہ کردہ تو اٹھائے کوئی یہ بیٹھ کر شیش محل میں نہ کرے نادانی ساکن قلعہ پر پتھر نہ چلائے کوئی تاک میں شکر محمود ابھی بیٹھا ہے ہاں سمجھے کہ ذرا ناقوس بجائے کوئی ہم ہیں تیار بتانے کو کمالِ قرآں خوبیاں دید کی بھی ہم کو بتائے کوئی کس طرح ما ہیں کہ مولیٰ کی ہدایت ہے وہ دید کو جب نہ پڑھے اور نہ پڑھائے کوئی مانیں ایسی ویسی جو کوئی بات نہ ہو دیوں میں ان کو اس طرح سے کیوں گھرمیں چلائے کوئی خود ہی جب دید کے پڑھنے سے دیکخرم رہے پھر کسی غیر کو کس طرح سکھائے کوئی 141 یہ نظم انداز 1920 ء کی ہے مجلہ الجامعہ مصلح موعود نمبر 36