کلام محمود مع فرہنگ — Page 106
کھول کر قرآں پڑھو اس کے کلام پاک کو دل کے آئینہ پر تم اک کھینچ لو تصویر یار شوق ہو دل میں اگر کوئی تو اُس کی دید کا کان میں کوئی صدا آئے نہ جو گفت ریار ہر رگ و ریشہ میں ہو اس کی محبت جاگزیں ہر کہیں آئے نظر نقشہ وہی منصور وار اپنی مرضی چھوڑ دو تم اس کی مرضی کے لیے جو ارادہ وہ کرے تم بھی کرو وہ اختیار عشق میں اس کے نہ ہو کوئی ملونی جھوٹ کی جو زباں پر ہو وہی استمال سے ہو آشکار پاک ہو جاؤ کہ وہ تو جہاں بھی پاک ہے جو کہ ہو ناپاک دل اس سے نہیں کرتا وہ پیار چھوڑ دو رنج و عداوت ترک کر دو بغض و کیس پیار و انفث کو کرو تم جان و دل سے اختیار 106