کلام محمود مع فرہنگ — Page 105
پر وہ عالی بارگہ ہے منبع فضل وکرم کیا تعجب ہے جو مجھ کو بھی بنا دے کامگار بات کیا ہے گر وہ میری آرزو پوری کرے دے میری جاں کو تسلی دے مرے دل کو قرار ہو کے بے پردہ وہ میرے سامنے آئے نکل میرے دل سے دُور کر دے ہجرو فرقت کا غبار جس قدر رستہ میں روکیں ہیں ہٹا دے وہ انھیں جس قدر حائل ہیں پردے اُن کو کر دے تارتار بے ملے اس کے تو جینا بھی ہے بد ترموت سے ہے وہی زندہ جسے اس کا ملے تُرب و جوا کور ہیں آنکھیں جنھوں نے شکل وہ دیکھی نہیں جوار گوش گز ہیں جو نہیں سُنتے کبھی گفت ریاد آرزو ہے گر فلاح و کامیابی کی تمھیں اس شہر خوباں پر کر دو بے سائل جاں نثار 105