کلام محمود مع فرہنگ — Page 107
چھوڑ دو غیبت کی عادت بھی کہ یہ اک زہر ہے رُوحِ انسانی کو ڈس جاتی ہے یہ مانند مار کبر کی عادت بھلاؤ انکساری سیکھ لو جہل کی عادت کو چھوڑو علم کر لواخت سیار دونوں ہاتھوں سے پکڑ لو دامن تقوی کو تم ایک ساعت میں کرا دیتا ہے یہ دیدار یار کہتے ہیں پیاروں کا جو کچھ ہو وہ آتا ہے پسند اس لیے جو کوئی اس کا ہو کرو تم اس سے پیار اُس کے ماموروں کو رکھو تم دل و جاں سے عزیز اُس کے نبیوں کے رہو تم چاکر و خدمت گزار اُس کے حکموں کو نہ ٹالو ایک دم کے واسطے مال و دولت، جان و دل ہر شے کروائس پرنیتار ساری دُنیا میں کرو تم مشتہر اس کی کتاب تاکہ ہوں بیدار وہ بندے جو ہیں غفلت شعار 107