کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 57
اور یہ کر توت چند گنے چنے ہر معاشوں کے نہیں تھے بلکہ پوری پوری قوموں نے اپنے آپ کو بد معاش ثابت کیا۔باقاعدہ حکومتیں بدمعاش بن گئیں، بڑے بڑے لیڈروں اور رئیسوں اور وزیر وں نے معاشی کی اسکیم سوچی اور حکومتوں کے پورے نظم ونسق نے اپنے مجسٹرٹیوں اور اپنی پولیس اور اپنی فوج کے ذریعہ سے اس کمی کو عملی جامہ پہنایا۔کیا یہ سب کچھ جو واقع ہوا محض ایک اتفاقی حادثہ تھا ؟ جو لوگ پچھلے نہیں سال سے اس ملک کی راہنمائی کرتے رہے ہیں اور جن کی قیادت میں یہ انقلاب رونما ہوا ہے ریعنی قائد اعظم وغیرہ۔ناقل ) وہ ایسا ہی کچھ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ اس فساد عظیم کے اسباب کی بحث کو باتوں میں ٹالنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔کیونکہ یہ محبت ان سب لوگوں کا منہ کالا کر دینے والی ہے۔جنہوں نے پچھلی ربع صدی میں ہمارے ملک کی سیاسی تحریکوں کی قیادت فرمائی ہے: (ص ۴) اس قیادت کی غلطیاں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ چند سطروں میں نہیں شمار کیا جا سکے۔مگر اس کی چند غلطیاں تو اتنی نمایاں ہیں کہ آج ہردی ہوش آدمی ان کو بری طرح محسوس کر رہا ہے۔مثال کے طور پر اس نے (1) حصول پاکستان کی جنگ میں اُن علاقوں کے مسلمانوں کو شریک کیا جنھیں لامحالہ سہندوستان میں ہی رہنا تھا۔آج یہ اس کا خمیازہ ہے کہ ہندوستان کی سر زمین بان عزیش کے لئے جہنم بن گئی ہے۔حالانکہ ان غریبوں کے لئے مولانا مودودی صاحب کے دل میں کتنا درد ہے اس کا اندازہ اس سے ریقیه منده پر)