کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 18
سمجھتا ہوں۔آپ نے مسلمان امراء کی طرف نظر التفات کرتے ہوئے باوقار لری لہجہ سے ارشاد فرمایا۔ر ہے ہمارے امراء تو ان کے لئے دنیا میں صرف دو ہی چیزیں پیپسی کا مرکز رہ گئی تھیں۔ایک پریٹ دوسرے شرمگاہ۔ان کے سوا کسی دوسری چیز کی ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہ رہی تھی۔ساری کوشش اور ساری محنتیں ہیں انہی کی خدمت کے لئے وقت تھیں۔اور قوم کی دولت سے اپنی پیشوں اور صنعتوں اور حرفتوں کو پروان چڑھایا جدار بہا تھا۔جو ان دو چیزوں کی خدمت کریں" مسلمانوں کا ماضی و حال مس، طبع دوم) ہ میں جناب سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے مولوی کا امتحان دیا۔پھر حیدر آبا دمیں دارالعلوم کی جماعت مولوی عالم میں شریک ہو گئے۔اس دوران میں آپ کے والد ماجد حیدر آباد سے بھوپال چلے گئے۔کچھ ماہ بعد می آپ بھی بھو پال پہنچ گئے اور اپنے والد محترم کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔جوان دنوں بستر علالت پر موقت رحیات کی کشمکش سے دوچار تھے۔رفتہ رفتہ ان کے صحت یاب ہونے کی تمام امیدیں منقطع ہوگئیں۔ڈیڑھ دو سال کے تجربات نے آپ کو سبق سکھایا کہ دنیا میں عورت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونا ضروری ہے۔اور معاشی استقلال کے لئے حید و جہد کئے بغیر چارہ نہیں۔فطرت نے تحریر و انشاء کا ملکہ ودیعت دربار کھا تھا۔عام مطالعے سے اس کو اور تحریک ہوئی۔اسی زمانہ میں علامہ