کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 17
مشہور بات تو یہ ہے کا سنگ باش برادر خوردمباش که یعنی چھوٹا بھائی بننے سے کتا بننا بہتر ہے۔مگر میرا تجربہ اس کے خلاف ہے۔نیز لکھتے ہیں:۔میرے والد مرحوم نے میری تربیت بڑے اچھے طریقے سے کی تھی۔وہ دہلی کے شرفاء کی نہایت سنخصری زبان بولتے تھے۔انہوں نے ابتداء سے یہ خیال رکھا کہ میری زبان بزرگ نے نہ پائے۔جب کبھی میری زبان پر کوئی غلط لفظ چڑا ہے جاتا یا کوئی بازاری لفظ سیکھ لیتا تو وہ مجھے ٹوک دیتے۔اور مجھے صحیح لفظ بولنے کی عادت ڈالتے۔یہی وجہ ہے کہ دکن میں پر درکش پانے کے باوجود میری زبان محفوظ رہی۔۔۔۔۔۔وہ مجھے زیادہ تر اپنے ساتھ اپنے دوستوں کی صحبت میں لے جاتے تھے اور ان کے دوست سب کے سب سنجیدہ، شائستہ اور اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ان محبتوں میں بیٹھنے سے میں چھوٹی عمر میں تہذیب عادات سیکھ گیا۔اور بڑی بڑی باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو گیا۔میری طبیعت میں جتنی شوخی متی والد مرحوم کی اس تقریبت کی وجہ سے وہ شرارتوں با دور دنگے فساد کی بجائے ظرافت کی شکل میں ڈھل گئی۔رمولانا مودودی اپنی اور دوسروں کی نظریں ص۲۶۲) اس خظرافت کے پاکیزہ اور نفیس نمونے تو میں انشاء اللہ آگے چل کر عرض کروں گا۔مگر یہائی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی قلعہ معلی کی یکسالی زبان سے بطور مثال آپ کی ایک فاضلانہ تقریر کا مختصر سا اقتباس سنانا ضروری