کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 19
19 تیکر فتحپوری مدیز گار سے آپ کے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے۔اور ان کی صحبت بھی وجہ تحریک بنی۔غرض ان وجوہ سے آپ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ علم ہی کو وسیلہ معاش قرار دینا چاہیئے۔خود نوشت سوانح عمری مشمولہ کتاب مولانا مودودی اپنی اور دوسروں کی نظریں ملک تا ۴۳ ) ت قلی میدان میں اترنے کے بعد آپ نے کیا کیا علمی خدمات سرانجام علمی خدما دیں۔ان کا تذکرہ خود آپ کے فلم سے سنیئے۔فرماتے ہیں۔سلہ میں سب سے پہلے میرے بھائی نے اخبار نویسی کے میدان میں قدم کھا اور انبالہ مدینہ (بجنور) کے ایڈیٹر ہوئے۔میں بھی ان کے ساتھ گیا اور ہم دونوں نے ساتھ مل کر کام شروع کیا لیکن ڈیڑھ دو مہینے سے زیادہ کرنان نہ نباہ سکے۔وہاں سے ہم دہلی واپس ہوئے۔یہ وہ زمانہ تھا جی بہند وستان میں سیاسی تحریک کے بہت زبر دست طوفان کی ابتداء ہو رہی معنی یہ ہم نے امین امانت نظر میدان اسلام میں کام کرنا شروع کیا اور 1919ء میں جب خلافت اور ستیہ گرہ کی سحریک کا آغازہ ہوا تو اس میں بھی حصہ لیا۔اسی زمانے میں میں نے گاندھی جی کی سیرت پر بھی ایک کتاب لکھی (یعنی خود نوشت سوانح عمری مساله) پھر را نے سر میں مسٹر گاندھی کی گرفتاری پہ آپ نے لکھانا فقط ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ نہیں مانتا کی گرفتاری سے رنج نہیں ہوا۔ہمیں رنج ہے کہ ایک ایسا آدمی ہم سے چھین لیا گیا۔جو پرامن طریقوں سے ہماری رہنمائی کر رہا تھا۔اور ہم اس کے پیچھے چل کر منزل مقصود سے 1 بہت قریب ہو گئے تھے کہ مولانا مودودی اپنی اور دوسری کی نظر میں مشہ! )