اچھی کہانیاں — Page 13
۱۳ راکی وقف نو کی بچی تھی ، نیک مزاج بیچی۔اس پر ان نیک باتوں کا بہت اثر ہوا " اب میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی نہ روؤں گی۔اس نے ماں کے گلے گنتے ہوئے کہا۔اسے اپنی کلاس کی سہیلی فرحت یاد آئی جس کا سال بھر میں صرف ایک سوٹ بنتا تھا، لیکن وہ کبھی محسوس نہیں کرتی تھی اور پڑھائی میں سب سے آگے ہوتی۔سوچتے سوچتے نہ جانے کب وہ نیند کی آغوش میں پہنچ گئی۔دوسرے دن اس کی امی نے بازار سے خوبصورت سی چوڑیاں لادیں۔رات کو جب را بی مہندی لگانے بیٹھی تو وقاص بھائی خوشی - ٹی سے چلاتا ہوا داخل ہوا " ماموں ، ماموں آگئے - پھر تو سب نے ملکر نعرہ سا لگایا " ماموں جان آگئے " عید سے ایک رات پہلے ماموں کا آجانا عبید کے چاند سے کم خوشی نہ تھی۔سارے گھر کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں۔ماموں سعودی عرب۔عید منانے اپنی آپا کے گھر آئے تھے۔رات کو انھوں نے سب کو تحائف دینے کے لیے بیگ کھولا تو راکی کی یہ نکھیں خوشی سے چمک اُٹھیں۔سفید رنگ کا فراک جس پر فرل لگی تھی اور سفید بروچ بھی لگا ہوا تھا راجی کو دیا۔فراک کے رنگ برنگے ربن عجب بہار دکھا رہے تھے۔سفید بروچ ہیرے کی مانند چمک رہا تھا۔