اچھی کہانیاں

by Other Authors

Page 12 of 34

اچھی کہانیاں — Page 12

001) تم نے اس بادشاہ کا قصہ تو سنا ہے نا ! جس کا ایک غلام تھا جو نہایت وفادار تھا۔ایک بار بادشاہ نے کڑوا خربوزہ کاٹ کر درباریوں کو دیا۔سب نے منہ بنایا، مگر وفا دار غلام مزے لیکر کھاتا رہا جیسے نہایت شیریں پھل ہو۔سمارے درباری حیران تھے کہ اتنا کڑوا پھل یہ غلام کیسے کھا رہا ہے ؟ * بادشاہ نے وجہ پوچھی تو پتہ ہے غلام نے کیا جواب دیا۔عالی جاہ ! آپ کے ہاتھوں سے کئی قسم کی نعمتیں ملتی رہیں اگر ان ہاتھوں سے آج معمولی ساکٹ واخر بوزہ مل گیا تو ناشکری کیسی ؟ " دیکھا بیٹی ! وہ ایک غلام تھا لیکن ہمارا اور ہمارے رب کا معاملہ تو اس سے کہیں زیادہ وفا کا تقاضا کرتا ہے۔ہمارا رب تو بن مانگے اتنی نعمتیں عطا کرتا ہے جن کے ہم حقدار بھی نہیں۔آج اس کی طرف سے ذرا مشکل وقت آگیا تو کون سی بڑی بات ہے۔وہ اللہ بڑا پیار کرنے والا ہے وہ ضرور دیا اور بہت دیگا " آپ ٹھیک کہتی ہیں امتی۔کیا ہوا اگر اس عید پر میں نے کپڑے نہ بنوائے۔باجی کی شادی تو بڑا ضروری فرض تھا جو خدا نے آپ کو اور ابو کو توفیق دی اور ادا ہوا۔میں تو اس عید پر شرارہ نہیں لوں گی پچھلی دفعہ والا۔ایک ہی مرتبہ تو پہنا ہے۔ابھی نیا ہی ہے؟