کافر کون؟

by Other Authors

Page 363 of 524

کافر کون؟ — Page 363

363 تیار کروایا جس پر بیت المال کا لکھوکھا ہاروپیہ خرچ کیا اور ملکہ سبا کی مرضی کے خلاف اس کا تخت منگوایا۔تفسیر جلالین میں مزید لکھا ہے کہ اس محل کی سطح سفید شفاف شیشہ کی تھی جس کے نیچے پانی جاری تھا اور اس میں ایک مچھلی بھی تھی اور حضرت سلیمان نے یہ حل صرف اس لیے بنایا کہ ملکہ سا بلقیس کے پاؤں دیکھیں کیونکہ شیاطین نے آپ کو خبر دی تھی کہ ملکہ سبا کے پاؤں گدھے کی طرح ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔اس لیے آپ نے چاہا کہ اس کی پنڈلیاں دیکھیں۔آگے لکھا ہے کہ جب بلقیس اس محل میں داخل ہوئی تو اس نے اسے گہرا پانی خیال کیا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا تا کہ پاؤں پانی میں ڈالے تو حضرت سلیمان نے جو وہاں کھڑے تھے دیکھا کہ اس کی پنڈلیاں اور پاؤں دوسرے لوگوں کی نسبت بدر جہا خوبصورت ہیں اس پر آپ نے پکار کر کہا کہ انها صرح مسترد من قوامر سر کہ اے ملکہ سی حل توشیشوں کا بنا ہوا ہے۔( تفسیر جلالین صفحه 319) حضرت سلیمان ایک انگوٹھی کے ذریعہ حکومت کرتے تھے ایک دن گم ہو کر مخرہ جن کو مل گئی تو اس نے آپ کا روپ دھار کر حکومت شروع کی اور چھ ماہ تک حضرت سلیمان کی بیوی سے بھی ہم صحبت ہوتا رہا ص آیت 35 کی تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ حضرت سلیمان اپنی انگوٹھی کی وجہ سے حکومت کیا کرتے تھے وہ انگوٹھی مخرہ جن کے ہاتھ پڑ گئی۔اس نے سلیمان کی شکل اختیار کر لی اور بادشاہ ہو گیا اور حضرت سلیمان محتاج ہو کر ایک ماہی گیر کے ہاں نوکر ہو گئے۔بالاخر مخرہ جن نے وہ انگوٹھی دریا میں ڈال دی جسے ایک مچھلی نگل گئی اور وہ مچھلی ماہی گیر نے پکڑ کر حضرت سلیمان کو مزدوری میں دیدی۔اور حضرت سلیمان دوبارہ بادشاہ ہو گئے اس درمیانی عرصہ میں حضرت سلیمان بادشاہ نہ رہے۔مخرہ جن سلیمان بن کر ان کی بیوی سے ہم صحبت بھی ہوتا رہا۔اور یہ بدکاری اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ نہ ماہواری میں چھوڑتانہ غسل کرتا۔یہ حالت چھ ماہ تک رہی۔العیاذ باللہ ( تفسیر حسینی / تفسیر خازن / تفسیر قادری تفسیر معالم التنزیل / تفسیر جلالین حاشیہ کمالین زیر آیت 35 سوره ص ) حضرت سلیمان گھوڑے دیکھتے رہے اور نماز نہ پڑھی پھر غصے میں آکر نوسویا 2 ہزار گھوڑوں کے سر قلم کر دیئے حضرت سلیمان کے بارے میں قرآن کریم کی آیت فطفق مسحا بالسوق ص 34 کی تفسیر میں ارشاد ہے کہ ایک روز حضرت سلیمان کی عصر کی نماز شاہی گھوڑوں کو دیکھنے میں جاتی رہی جس پر آپ نے غصہ کو فرو کرنے کے لیے یا کفارہ ادا کرنے کے لیے نو سو یا دو ہزار گھوڑوں کا سر قلم کر دیا۔( تفسیر خازن صفحه 370 / تفسیر جلالین صفحه 380 )