کافر کون؟

by Other Authors

Page 326 of 524

کافر کون؟ — Page 326

326 اگست 1990ء ہم زانی، شرابی ،مگر بد معاش بلکہ سڑی ہوئی قوم جس کا مولوی ایک پلیٹ پر بک جاتا ہے۔۔۔میاں مد طفیل صاحب سابق امیر جماعت اسلامی میاں محمد طفیل صاحب پاکستانی مسلم معاشرے کی درج ذیل تصویر بناتے ہیں : قوم میں کس پر اسلام لایا جائے؟ کس پر اسلام نافذ کیا جائے؟ قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے۔۔۔امرواقعہ یہ ہے کہ یہ قوم تو بالکل سڑ گئی ہے پیسے بغیر کوئی ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔کوئی ناچ رہاہو کوئی زانی زنا کر رہا ہوں کسی کو پرواہ نہیں پیسہ ہوتو وہ لیڈر بن جائے گا۔کسی کو امانت اور دیانت کی کوئی پرواہ نہیں نہ ضرورت جتنا بڑا کوئی رشوت خور ہو۔جتنا بڑا کوئی بددیانت ہو۔جتنا بڑا کوئی سمگلر ہو۔زانی ہو۔بدمعاش ہو اس کو ووٹ دیں گے اب آپ ہی بتائیں کس پر اسلام نافذ کیا جائے ؟۔آپ کے علماء کا کیا حال ہے؟ ایک حلوے کی پلیٹ کسی مولوی صاحب کو کھلا دیں جو چاہے فتویٰ لے لیں ہر مولوی دوسرے کو کافر بنارہا ہے۔جماعت اسلامی 50 سالوں سے کام کر رہی ہے۔مولانا مودودی جیسا شخص اس قوم کے واسطے سرکھپاتا رہا۔گیارہ کروڑ کی آبادی میں سے اس وقت بھی 5 ہزار جماعت اسلامی کے ارکان ہیں وہ بھی چھوٹی برادریوں اور ذاتوں کے تعلق رکھنے والے یا دفتروں کے چپڑاسی کوئی قابل ذکر آدمی جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں“۔10 مارچ1993ء بیدار ڈائجسٹ اگست 90 صفحہ 9 ضیاء الحق شہید نمبر ) بیرونی دنیا میں تبلیغ کے لیے جانے والے مبلغو! خود تمہیں مسلمان کرنے کی ضرورت ہے انھیں نہیں روز نامہ پاکستان لکھتا ہے: وسط ایشیا کے ضمن میں دو ایسے پہلوؤں کی طرف اشارہ ناگزیر ہے جو انتہائی حساس لیکن انتہائی اہم ہیں۔عملاً یہ بات سمجھ لینی از حد ضروری ہے کہ وسط ایشائی ممالک بالخصوص از بکستان کو ہماری تبلیغی کوششوں کی نہ ضرورت ہے اور نہ یہ ممالک اس ضمن میں ہماری روایات طریق کار بلکہ طریق واردات کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ہمیں یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ ممالک اسلامی علوم اور روایات میں ہم سے کہیں آگے تھے اور ڈیڑھ سو سال کی اسلام دشمنی بھی انہیں اسلام سے نہیں ہٹا سکی اسلام کا احیا و ہاں اپنی فطری رفتار سے ہوگا اور اس میں وسط ایشیائی مسلمان مرکزی کردار ادا کریں گے۔جس رفتار سے ان ملکوں میں مسجد میں آباد ہورہی ہیں اور مدارس اسلامی علوم کے شائق طلبہ سے بھر گئے ہیں وہ حیران کن ہے اور اس حقیقت کی بھی نماز ہے کہ یہ سارا کام ہماری تبلیغی معاونت کے بغیر ہوا ہے۔