کافر کون؟

by Other Authors

Page 325 of 524

کافر کون؟ — Page 325

325 القاب کے ذریعہ بعض سادہ لوح لوگوں کے سامنے بدنما بتاتے ہیں۔اُن کا اسلام قرآن اور احادیث نبویہ کو پس پشت ڈالکر خود ساختہ قوانین کے فیصلہ سے بھی انہیں نہیں روکتا اور ان کا اسلام انہیں اس بات سے بھی نہیں روکتا کہ شریعت اسلامیہ کو عیوب اور نقائص کا تختہ مشق بنا ئیں۔وہ اشترا کی مذہب رکھتے ہیں۔وہ دہریوں کی مدد کرتے ہیں۔اور خدا کے دین اور خدا کے مومن بندوں سے بیگانگی اختیار کئے ہوئے ہیں“۔8 فروری 1988ء (اخبار العالم الاسلامی 15 شعبان 1394ھ مطابق 3 ستمبر 1974 ء صفحہ 13 تا 16 ) 1400 سو سال بعد آج نہ ہم مسلمان ہیں نہ پاکستانی نہ انسان۔۔۔۔صدر ضیاء الحق 11 سال تک اسلام کے نام پر مطلق العنان حکومت کرنے اور ہر شعبہ میں ملاں حضرات کو مکمل سپورٹ دینے والا شخص آخر 8 فروری 1988 ء کو مسلم معاشرے کی یہ تصویر بناتا ہے: افسوس چودہ سو سال بعد ہم نہ مسلمان ہیں نہ پاکستانی اور نہ انسان رہے ہیں۔۔۔مجھے نظر آ رہا ہے کہ پورے کا پورا معاشرہ گڑھے کی طرف جا رہا ہے۔اوکاڑہ میں سیرت النبی کانفرنس سے خطاب روز نامہ جنگ لاہور 8 فروری 1988 ء ) 24 فروری1989ء بیرون ملک جانے والے مبلغین کے اعمال اگر ان کے چندہ دینے والے دیکھ لیں تو کبھی ایسانہ کریں۔سید سہیم حسن جناب سید سهیم حسن بیرون ملک تبلیغ اسلام کے لیے جانے والے مبلغین کے اعمال و افعال کی منظر کشی کر کے یہ خوفناک منظر پیش کرتے ہیں : وہ مسلمان مبلغین جو بیرون ممالک تبلیغ اسلام کے لیے جاتے ہیں ان کا خاص ہدف یورپین ممالک ہی ہوتے ہیں اور ان کا زیادہ تر قیام یورپ میں برطانیہ میں ہوتا ہے یہ مقامی لوگوں سے چندہ وغیرہ لیکر جاتے ہیں اور جاتے آتے وقت اخبارات میں اپنی تصویر مع خبر کے شائع کراتے ہیں تا کہ چندہ دہندگان کو یہ معلوم ہو کہ اب ان کا پیسہ کام میں استعمال ہونا شروع ہو گیا ہے۔اس پیسہ کا ایک بڑا حصہ یہ اپنی آسائش قیام و طعام پر خرچ کرتے ہیں جو عموماً 4 سے 5 اسٹار ہوٹلوں میں ہوتا ہے وہاں جا کر بھی یہ جس قسم کی تبلیغ کرتے ہیں اگر اس کا اندازہ ان کے چندہ دہندگان کو ہو جائے تو شاید انہیں چندوں کی ان رقومات سے ہاتھ دھونا پڑیں۔وہاں یہ لوگ کافروں کو دائرہ اسلام میں لا نا تو دور کی بلکہ بہت سوں کو تو اسلام سے خارج کرنے کے فتوے صادر کر کے وطن تشریف لاتے ہیں“۔اخبار جنگ جمعہ ایڈیشن 24 فروری 1989 صفحہ اول