کافر کون؟ — Page 327
327 پاکستان کی تبلیغی کوششوں نے اس سے پہلے یورپی ممالک ( بالخصوص برطانیہ ) میں دیو بندی، بریلوی ،شیعہ اور اہل حدیث فرقوں کی پرورش کی ہے اور کئی مسجدوں میں جھگڑوں، مقدمہ بازیوں اور انجام کار مقامی پولیس کے ہاتھوں تالے لگوانے کے کار ہائے خیر انجام دئے ہیں اگر ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وسط ایشیا کے مسلمان اسلام سے برگشتہ ہو چکے ہیں اور انہیں دائرہ اسلام میں داخل کرنا ہمارا فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی کے لئے وہاں تبلیغی وفد روانہ کرنے چاہیں تو خوش فہمی افسوس ناک اور قابل رحم ہے۔وہاں جس طرح اشترا کی زبان اب بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں جس طرح امریکہ اور روس احیا اسلام کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور جس دانشمندی اور حکمت سے وہاں کے مسلمان اسلام کی طرف واپس آرہے ہیں ان سب پہلوؤں کے پیش نظر تبلیغی حملے وہاں کے مسلمانوں کو بے پناہ مشکلات سے دو چار کر سکتے ہیں۔وسط ایشیا کی اخلاقی حالت ہم لوگوں سے کہیں بہتر ہے۔وہ جھوٹ نہیں بولتے ہر کام قاعدے اور تنظیم سے کرتے ہیں جرائم کی شرح حیرت انگیز تک کم ہے۔ہمارے مبلغین کو جو آئے دن یورپ اور امریکہ کے دورے کرتے ہیں غالباً یہ نہیں معلوم کہ تبلیغ کی سب۔زیادہ ضرورت پاکستان کو ہے۔“ 2 نومبر 1995ء روزنامه پاکستان اسلام آباد 10 مارچ 1993 ء ) آج ہم یہودی اور عیسائی بن چکے ہیں اور ہر مورد عذاب ہونے والا نفعل کر رہے ہیں روزنامہ نوائے وقت زیر عنوان ” شریعت کے نفاذ کی ضرورت واہمیت مندرجہ ذیل حیران کن منظر کشی کرتا ہے: آج امت محمد یہ سارے کام کرنے میں مشغول ہے جن کاموں کے کرنے سے دوسری قوموں پر عذاب نازل ہوا۔آج امت مسلمہ کا قبلہ و کعبہ زمین پر نہیں ذہنوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔آج زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم صرف تیری بندگی کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور دکھا ہمیں سیدھا راستہ۔راستہ ان لوگوں کا جن پر تیر انعام نازل ہوا نہ وہ مغصوب تھے اور نہ گمراہ لیکن پیروی مغضوب ( یہودی ) اور گمراہ (عیسائی) یہودیوں اور عیسائیوں کی کرتے ہیں اس کی واضح مثال پاکستانی معاشر ہے“۔1997 *5 ( روزنامہ نوائے وقت 2 نومبر 95، اشاعت خاص نمبر 1 تحریر برج سیں) کا کیاں تاڑنا میرا مذہب ہے۔۔۔میں پیر آف کنجر شریف ہوں