کافر کون؟

by Other Authors

Page 274 of 524

کافر کون؟ — Page 274

274 تھکے ہارے مسافر کی طرح میں نے بھی ایک لمحہ کے لیے رک کر ماضی کے گزرے لمحوں کو صدا دی۔اور ان راستوں کا تصور کیا جہاں سے میں گزر آیا تھا۔لیکن جس قیامت سے اب میرا سامنے ہے وہ ماضی کے تمام قصوں کو بھلا دینے والی ہے۔یعنی افتراء سازی۔یعنی جھوٹ اور سراسر جھوٹ۔یعنی بہتان یعنی تقوی سے عاری۔یعنی خوف خدا سے دشمنی۔یعنی تعصب اور ہٹ دھرمی کی انتہا۔میں نے اس لمحے کی لڑائی میں جس کو بھی دیکھا۔جس سے بھی ملا۔جس کو بھی پڑھا۔اور جس بھی مخالف احمدیت کے فن حرب کا ملاحظہ کیا ایک ہی بات نچوڑ کے طور پر سامنے آئی کہ جھوٹ اور افتراء کے بغیر رنگ چھوکھا نہیں ہوتا اور محفل سجی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔اس محاز جنگ پر کوئی مولوی تھا یا مولانا۔کوئی عالم دین تھا مجد دعصر کوئی تاریخ دان تھا یا کوئی صحافی کوئی دانشور تھا یا پی ایچ ڈی فاضل، مجبور تھا جھوٹ بولنے پر۔دوستو ! یہی جان کاری میری انگلی مشکل میں بدل گئی۔جھوٹ نمبر 1 مشکل نمبر 37 1935ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کر دیا تو علامہ اقبال نے اپنا بیان بدل لیا۔ڈاکٹر وحید عشرت صاحب پی ایچ ڈی کا معصوم جھوٹ ابتداء ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر جو احمدیت کی مخالفت کرنا چاہتا ہے کے خیالات مطہرہ سے کرتے ہیں۔پس منظر علامہ اقبال نے 1910ء میں خطبہ علی گڑھ ( اسٹریچی ہال ) میں فرمایا تھا کہ 66 ” جماعت احمد یہ اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ ہے“ صورت حال کا مقابلہ ڈاکٹر علامہ اقبال کے حوار میں نہیں چاہتے کہ ان خیالات سے جماعت احمدیہ کو سپورٹ ملے یا پھر ان نظریات کا دفاع کیسے کیا جائے؟ سو جب 85 ویں برسی کے موقعہ پر اقبالیات نمبر بڑی دھوم دھام سے شائع کیا گیا اس میں ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر وحید عشرت صاحب نے یوں تحقیق پیش کی : اقبال نے اس خطبہ ( 1910ء) میں قادیانیوں کے طرز عمل کی تعریف کی ہے اور بعد میں اس سے برأت کا اظہار فرمایا۔اس خطبے کے وقت مرزا غلام احمد قادیانی نے قطعی اور حتمی طور پر دعوی نبوت نہیں کیا تھا وہ خود کومحمد مصلح او