کافر کون؟ — Page 275
275 مناظر اسلام کہتے تھے ایسے میں ان کے اور ان کی حمایت کے اسلامی کردار کی اقبال نے تعریف کی مگر جب مرزا صاحب نے پر پرزے نکالے اور نبوت کے دعوے شروع کئے تو اقبال ان اولین لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ان کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ تکفیر کی اور 1935ء میں انتخابات کے وقت انہیں اس لیے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔(اقبالیات جلد نمبر 28 جنوری مارچ 1988 ، صفحہ 461) تبصره تبصرہ صرف اتنا ہے کہ 1910ء میں آپ نے جماعت کو اسلام کا ٹھیٹھ نمونہ بیان فرمایا اور بعد کے نبوت کے دعوئی پر 1935ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر دیا جبکہ صورت حال یہ ہے کہ مرزا صاحب تو 1910ء سے بھی 2 سال قبل 1908ء میں فوت ہو چکے ہیں۔کیسی لگی۔جھوٹ نمبر 2 1870ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ظلی نبی کھڑا کیا جائے جمعیۃ العلماء اسلام سرگودھا اور شورش کا شمیری صاحب کا نادر الوقوع جھوٹ پس منظر مئی 1967ء میں جمعیت العلماء اسلام سرگودھا نے خالد پریس سے انگریزی میں ایک پمفلٹ شائع کیا جس کا عنوان تھا: SOME THING TO PONDER OVER اسے مشرقی اور مغربی پاکستان میں خوب تقسیم کرنے کے کئی سال بعد شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا اردو ترجمہ شائع کردیا اور 1973ء کی اپنی مطبوعہ روداد بابت سال 1392ھ میں اس کو اپنا خاص کارنامہ قرار دیا۔اسی دوران شورش کاشمیری صاحب نے اسی رسالہ کو اپنے رسالہ ” چٹان میں بجھی اسرائیل“ کے نام سے شائع فرما دیا اور یوں اسے شرعی سند کا درجہ حاصل ہو گیا۔1974 ء میں انہوں نے اس کو مستند دستاویز کے طور پر قومی اسمبلی میں پیش کر دیا اور ساتھ ہی اس کے عربی ، اردو، انگریزی ترجمے شائع کر دیئے گئے۔وہ پمفلٹ درج ذیل ہے۔صورت حال 1869ء میں انگریزوں نے ایک کمیشن لندن سے ہندوستان بھیجا تا کہ وہ انگریز کے متعلق مسلمان کا مزاج