کافر کون؟

by Other Authors

Page 97 of 524

کافر کون؟ — Page 97

97 جھوٹ اور مجوسی روایات قرار دے کر نزول مسیح کے سرے سے ہی منکر بن گئے ہیں۔جیسے غلام احمد پرویز اور چکڑالوی صاحبان وغیرہ۔حمد کچھ اصحاب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے تو بھی ٹھیک۔زندہ ہیں تو بھی ٹھیک۔نازل ہو جائیں تو بھی ٹھیک۔نہ نازل ہوں تو بھی ٹھیک۔کام ہمارا چل رہا ہے جیسے غلام جیلانی برق صاحب وغیرہ۔حمد ان سب سے بڑھ کر ایسے عالم دین بھی منصہ شہود پر آئے ہیں جو ایک محفل میں حیات مسیح کے قائل ہیں تو دوسری میں وفات مسیح کے۔اور تیسری میں نہ منکر نہ قائل ایسے گروہ کے سرخیل جناب مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب قرار پائے ہیں۔پانچ بڑے بلاکس میں تقسیم یہ جماعت احمدیہ کا مخالف کیمپ ہی میری پانچویں مشکل بن گیا۔مشکل نمبر 6 عقیدہ حیات مسیح رکھنے والوں کی جھنجھلاہٹیں مولانا مودودی صاحب دور حاضر کے ممتاز علماء دین میں شمار ہوتے ہیں۔آپ نے اپنی زندگی جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت میں گزاری لیکن عقیدہ حیات مسیح رکھنے کے نتیجے میں انہیں کتنی بے قراریوں سے گزرنا پڑا۔اسے پڑھ کر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ عقیدہ کتنا Base Less“ ہے۔مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں۔پہلا بیان پیلاطوس کی عدالت میں پیشی تو آپ ہی کی ہوئی مگر جب وہ سزائے موت کا فیصلہ سناچ کا تب اللہ تعالیٰ نے کسی وقت آنجناب کو اٹھا لیا ( آسمان ) بعد میں یہودیوں نے جس شخص کو صلیب پر چڑھا یا وہ آپ کی ذات مقدس نہ تھی۔(تفہیم القرآن جلد 1 صفحه 419) مسیح" بالکل آسمان پر نہیں گئے قرآن مجید میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔دوسرا بیان آپ نے 28 مارچ 1951 ء کواچھرہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: حیات مسیح اور رفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں قرآن کی مختلف آیات سے یقین پیدا نہیں ہوتا“۔(ماخوذ از آئینه مودودیت مصنفہ مفتی محمد فیض اویسی رضوی بہاولپور ) ختم نبوت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا کہ تمام انبیاء کا فوت ہونا ہی ختم نبوت ہے۔پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے اور نہ ضروری ہے کہ ہر قوم کے لئے ہر وقت ایک پیغمبر موجود ہو۔پچھلے پیغمبر