کافر کون؟

by Other Authors

Page 96 of 524

کافر کون؟ — Page 96

96 دیا ہے۔ہزاروں نئے علوم اور تحقیقی جستجو نے حیات مسیح کے عقیدے کو جڑھ سے اکھیڑ کر ایک فرضی قصہ میں بدل کر رکھ NASA جیسے تحقیقی ادارے کی مسیح کے کفن پر سائنٹفک تحقیق۔بحیرہ مردار کے کنارے سے برآمد ہونے والے تاریخی کتبے اور سکرولز۔تبت کے شہر لیہ ، ہمس اور لداخ سے برآمد ہونے والی دستاویزات۔کشمیر کی ہسٹری۔اقوام افغان کی تحقیق پر مشتمل بیسیوں کتب۔واقعہ صلیب کا چشم دید گواہ جیسی شہرہ آفاق دستاویز۔ہندو و بدھ مذہبی اور تاریخی کتب کی گواہیاں۔طب اور بائیل کی اندرونی شہادتیں۔دوسری ہزاروں تحقیقات نے اس بات کو روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے کہ مسیح اپنے گم شدہ 10 اسرائیلی قبائل کی تلاش میں سنت انبیاء کے ماتحت فلسطین سے جہاں صرف 2 قبیلے آباد تھے ہجرت کر کے کشمیر کی طرف آئے۔یہاں شادی کی اور طبعی لمبی عمر پا کر 120 سال کی عمر میں فرمان نبوی سالی یا پیلم کے مطابق فوت ہوئے اور اب محله خان یارسری نگر میں حضرت بل کی درگاہ کے تہہ خانے میں آپ کا روضہ مبارک ہے۔تحقیق کے نئے نئے ذرائع اور ہزاروں نئے علوم کی آمد جہاں کلیسا پر بجلی بن کر گری اور انہیں اپنے اس طلسمی عقیدہ کو سہارا دینے کے لئے ہزاروں جتن کرنے پڑرہے ہیں وہیں حیات مسیح کے قائل مسلمان علماء دین کو بھی سراسیمگی کے بے رحم صحرا میں لا پنچا ہے۔نئے علوم کے اس تازیانے نے جماعت احمدیہ کے مخالف کیمپ کو کتنے بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔یہی میری پانچویں پریشانی ہے۔کچھ اصحاب مضبوطی سے مسیح کے زندہ آسمان میں موجود ہونے والے نظریے پر قائم و دائم ہیں جیسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان۔کچھ اصحاب کھل کر وفات مسیح کے قائل نظر آتے ہیں جیسے علامہ سرسید احمد خاں، علامہ مشرقی ، علامہ جاوید الغامدی اور جامعہ ازہر کے اساتذہ کرام وغیرہ۔کچھ اصحاب مجبوراً وفات مسیح کے قائل ہو گئے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی وہ نزول مسیح والی تمام احادیث کو