کافر کون؟

by Other Authors

Page 98 of 524

کافر کون؟ — Page 98

98 مر گئے کیونکہ جو تعلیم انہوں نے دی تھی دنیا نے اس کو بدل ڈالا۔جو کتا ہیں لائے ان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں۔یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی زمانے میں پیدا ہوئے؟ کہاں پیدا ہوئے؟ کیا کام کئے ؟ کس طرح زندگی بسر کی؟ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا ؟ یہی ان کی موت ہے۔“ (کتاب دینیات، مؤلف مولوی مودودی صاحب صفحہ 72 73 مطبع ڈے ٹائم پر نٹر لاہور، ناشر ادارہ ترجمان القرآن غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور طبع اول 1937 قرآن مجید سے نہ مسیح کی حیات کا ذکر ملتا ہے نہ وفات کا۔11 سال بعد تیسرا بیان 1962ء میں یعنی 11 سال بعد آپ کی طرف سے تیسرا اعلان سامنے آیا: قرآن کی رو سے زیادہ مطابقت اگر کوئی طرز عمل رکھتا ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ رفع جسمانی سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی۔۔۔اس کی کفیت کو اسی طرح مجمل چھوڑ دیا جائے جس طرح خود خدا نے مجمل چھوڑ دیا ہے۔(مولانا مودودی پر اعتراضات کا علمی جائزہ مصنفه مولوی محمد یوسف حصہ اول صفحه 169 ) ان تین بیانات کے مطالعہ کے بعد آگے چلیے چند ماہ بعد 1962ء میں ہی وطن عزیز میں الیکشن آنے والے ہیں۔جماعت اسلامی بھر پور طریقے سے حصہ لے رہی ہے۔زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے کے لیے اور خود کو سچی مذہبی جماعت اور جماعت احمدیہ کو دشمن اسلام ثابت کرنے کے لیے، اس سیاسی ماحول میں مولانا مودودی صاحب ایک رسالہ ختم نبوت تحریر کرتے ہیں اور اسے شہر شہر گاؤں گاؤں پھلا دیتے ہیں۔گویا تیسرے بیان کے ایک ماہ بعد چوتھا بیان منظر عام پر آتا ہے یادر ہے کہ اب کی بار روئے مبارک خالصتاً جماعت احمدیہ کی طرف ہے۔2 ہزار سال پہلے والے مسیح آسمان پر زندہ موجود ہیں ضرور نازل ہونگے۔چوتھا بیان یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسی کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جواب سے 2000 ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے تھے“۔پھر مزید دلائل دینے کے بعد فرماتے ہیں: ( ختم نبوت صفحه 13 ) اس مسیح دجال کا مقابلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اس اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا جسے دو ہزار برس پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا کر ٹھکانے لگا