کافر کون؟

by Other Authors

Page 458 of 524

کافر کون؟ — Page 458

458 ہیں جہاں امریکی اور غیر ملکی جنرل بھی تھے۔جنرل اختر ملک نے وہاں بھی اپنا سکہ منوایا۔وہ لوگ اس بات کے قائل ہو گئے کہ ہاں پاکستان فوج میں کوئی جرنیل ہے۔1965ء کی جنگ کی انہوں نے پلاننگ کی تھی اگر ہم اس پلاننگ کے تحت چلتے تو اکھنور قبضے میں آجاتا۔اگر اکھنور قبضے میں آجاتا تو سیالکوٹ محفوظ ہو جاتا کیونکہ اکھنورا نڈین لائن آف کمیونی کیشن تھی۔“ (مشرقی پاکستان کے پانچ کردار صفحہ 20) جماعت کے مشہور مخالف جناب مولانا شورش کا شمیری صاحب ان جنگ کے دنوں میں ایک احمدی جرنیل کی بہادری سے اتنے متاثر ہوئے کہ داد شجاعت یوں دی: ہر اک محاذ جنگ پران کو پچھاڑ دو ہندوستان کی فوج کا حلیہ بگاڑ دو واہگہ کی سرزمین پر حریفوں کی ٹولیاں اختر ملک کی زیر قیادت چتھاڑ دو ایک اور نظم میں یوں ارشاد ہوا : میدان کارزار پہ چھاتے ہوئے چلو جوش وفا کا نقش بٹھاتے ہوئے چلو دہلی کی سرزمین نے پکارا ہے ساتھیو اختر ملک کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلو اس کے سوا جہاد کے معنی ہیں اور کیا اسلام کا وقار بڑھاتے ہوئے چلو (رسالہ چٹان 13 ستمبر 65 صفحہ 4 بریگیڈئیر عبدالعلی ملک (چونڈہ کے ہیرو) بریگیڈئیر عبدالعلی ملک جو بعد میں لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پاگئے کو مختلف شخصیات اور اخبارات ورسائل نے یوں خراج تحسین پیش کیا : بھارت کے پورے آرمرڈ ڈویژن کو ایک قادیانی بریگیڈئیر نے صرف ایک ٹینک رجمنٹ سے روک دیا۔(ماہنامہ حکایت) ماہنامہ حکایت نے نومبر 1984ء میں خراج تحسین کو یوں رقم فرمایا: ستمبر 1965ء میں سیالکوٹ چونڈہ سیکٹر پر بھارت نے پورے آرمرڈ ڈویژن سے حملہ کیا تھا۔اس حملے کو ایک قادیانی بریگیڈئیر نے صرف ایک ٹینک رجمنٹ اور دو انفنٹری پلٹنوں سے روکا تھا۔اس بریگیڈئیر کو اس کے ڈویژن کمانڈر نے حکم دیا تھا کہ پیچھے آؤ سیالکوٹ خالی کر دو ہم بہت پیچھے ہٹ کر (سیالکوٹ دشمن کو دیکر لڑیں گے۔اس قادیانی بریگیڈئیر نے اپنے ڈویژن کمانڈر کا یہ حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا اور حملہ روک لیا تھا۔اس بریگیڈئیر کا