کافر کون؟ — Page 457
457 کیں۔لاہور کے محاذ پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے میجر منیر احمد اور چھمب سیکٹر میں جان قربان کرنے والے میجر قاضی بشیر احمد جیسی مثالیں بھی ملتی ہیں۔لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے 50 میل دور ایک ٹرک کار حادثے میں شہید ہو گئے آپ کی وفات پر صدر پاکستان نے فرمایا: دو مجھے لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک اور ان کی اہلیہ کی ناگہانی وفات سے سخت صدمہ پہنچا ہے جنرل کی وفات سے پاکستانی افواج کو ایک نا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔“ (روز نامه امروز 23 اگست 1969 ء ) ترکی سے جنرل اختر حسین ملک کی میت پاکستان ائیر پورٹ پہنچنے پر چیف آف سٹاف جنرل عبدالحمید صاحب نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا: جنرل اختر حسین ملک کی افسوسناک موت پر ہر پاکستانی کو صدمہ ہوا ہے خصوصاً مسلح افواج کو کہیں زیادہ صدمہ ہوا ہے۔جس سے مرحوم عرصہ سے منسلک ہے۔مرحوم ایک عظیم سپاہی ، بہترین جرنیل اور شریف النفس انسان تھے۔ان کی موت سے قوم کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔زمانہ امن ہو یا جنگ وہ قیادت کرنے کی بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے اور ان کے کارنامے ہمیشہ دوسروں کے لیے مثال بنے رہیں گے۔“ بری فوج کے سر براہ جنرل محمد موسیٰ صاحب آپ کو ہلال جرات کا اعزاز دیے جانے کی تقریب میں کہا: مجھے آپ جیسے مجاہدوں کے درمیان موجود ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے جنہوں نے ایک ایسے مکار دشمن کے حملے کا دندان شکن جواب دیا جس نے بغیر اعلان جنگ کے رات کے اندھیروں میں اپنی قوت سے مذ ہوم حملہ کیا تھا۔آپ نے اس کی تمام غلط فہمی دور کر دی اور ایسی عبرتناک شکست دی ہے جو رہتی دنیا تک اسے یادر ہے گی۔میں آپ کی ہمت استقلال بے جگری اور بہادرانہ عظمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے مقدس اور محبوب وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے والہانہ جنگ کی۔“ ڈائری آف دی وار اردو ایڈیشن صفحہ 283 284) سابق وزیر دفاع اور سابق ممبر قومی اسمبلی جو خود رن آف کچھ کی جنگ میں شریک ہوئے میجر راجہ نادر پرویز صاحب جنرل اختر صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں: میجر جنرل اختر حسین ملک کے متعلق آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سپر انٹیلی جنٹ اور جنیکس تھے وہ ترکی میں رہے