کافر کون؟ — Page 459
459 نام عبد العلی ملک ہے جو بعد میں میجر جنرل ہو گئے تھے۔وہ جنرل اختر حسین ملک مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔“ جنرل عبد العلی ملک نے چونڈہ کے محاذ پر تاریخ حرب کے تمام ماہرین کو حیران کر دیا روز نامہ امروز لاہور 23 اگست 1969ء کی اشاعت میں یوں خراج پیش کرتا ہے: (صفحہ 114) میجر جنرل عبد العلی نے چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی عظیم جنگ میں پاکستانی فوج کی کمان کی اور ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ تاریخ حرب کے ماہرین حیران و ششدر رہ گئے۔فاتح رن کچھ میجر جنرل افتخار جنجوعہ (2 مرتبہ ہلال جرأت) میجر معین باری صاحب نے خراج تحسین ان الفاظ میں رقم کیا: پاکستان فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے اس کے جو ان آفیسر نڈر بہادر اور جذبہ شہادت سے سرشار ہیں کہ ساری قوم ان پر فخر کر سکتی ہے۔پاک فوج میں اب بھی میجر بھٹی شہید۔میجر شریف خادم اور جنرل افتخار جنجوعہ شہید جیسے بہادر اور جری افسروں کی کمی نہیں 1965ء کی جنگ میں انہی فوجیوں نے بھارتی فوج کے حواس باختہ کر دیا تھا۔“ (روز نامہ جنگ لاہور 19 نومبر 1986 ء ) قانون بین الاقوامی امور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کی نمائندگی متحدہ ہندوستان میں مسلم لیگ کے صدر اور بعد میں بانی پاکستان سے بیٹے کا خطاب حاصل کرنے والے عظیم شخص چوہدری ظفر اللہ خان میں مندرجہ بالا تمام اوصاف یکجا ہو گئے تھے آپ کو بانی پاکستان نے اپنی کابینہ میں سب سے اہم عہدے وزیر خارجہ کے عہدے پر مامور فرمایا۔جنوری 1948ء میں اقوام متحدہ میں بھارت کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے خلاف شکایت درج کرادی چوہدری صاحب نے اس کیس کو کس ذہانت سے لڑ کر تاریخ میں انمٹ نام درج کروایا اس کا ثبوت وہ گلی گلی سے اٹھنے والی آواز ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔وہ قراردادیں پاس کروانے والا شخص سر ظفر اللہ خان تھا۔1948ء تا 1954ء چوہدری صاحب خود اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے سربراہ کے طور پر پیش ہوتے رہے۔اس دوران آپ نے عالم اسلام کی انتہائی اہم اور گراں قدر خدمات انجام دیں۔اس میں شمالی افریقہ کے مسلم ممالک لیبیا، تیونس، الجزائر، مراکش، کی آزادی اس کے علاوہ صومالیہ، سوڈان کے ممالک کے مسائل اور مصر سے نہر سویز پر قبضے کے دوران برطانوی فوج کی واپسی کے مسئلہ پر عالم عرب اور عالم اسلام کی زبردست حمایت کی بلکہ