کافر کون؟ — Page 319
319 کے اتباع سے آزادی اور بے تعلقی پیدا ہو جاتی ہے جو عوام کے لیے مہلک اور گمراہی کا باعث ہے۔اس لیے ہم ان امور کو اور ان پر مشتمل تحریک کو غلط اور مسلمانوں کے لیے مضر سمجھتے ہیں اور اس سے بے تعلقی کا اظہار کرتے ہیں“۔( دو مسئلے صفحہ 16 شائع کردہ دیوبند ) ( بحوالہ جماعت اسلامی صفحہ 11 تا15 شائع کردہ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی کچا رشید روڈ بلال گنج لاہور ) جماعت اسلامی کی تصویر بریلویوں کی نظر میں برصغیر پاک و ہند کے ممتاز بریلوی عالم دین مولانا ارشد القادری جماعت اسلامی کے بارے میں فرماتے ہیں: گہرا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جماعت اسلامی پراسرار کمیونٹیسٹوں کی طرح نہایت چالا کی اور خاموشی کے ساتھ ذہنوں پر چھاپہ مارتی ہے۔سب سے پہلے پرکشش اور خوشنما لٹریچر کے ذریعہ وہ اپنا اثر اجنبی دماغوں میں اتارتی ہے اور جب ذہن مسحور ہو جاتا ہے تو اسے ایک نہایت مہلک اور خطرناک قسم کی جماعتی نخوت فکر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ابتلاء کے بعد اس کا ہر ممبر اپنی فکری سطح کو عام مسلمانوں کی سطح سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔جاہلیت کی نئی اصطلاح ان مسلمانوں پر بولی جاتی ہے جو جماعت سے باہر ہیں یا جماعت کے زہر یلے جراثیم سے اپنے حلقہ اثر کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ماحول میں پہنچ کر جماعت کا ہر ممبر جماعت کی فکری اور علمی برتری کی نخوت میں اتنا خود رفتہ بنا دیا جاتا ہے کہ تمام بزرگان امت اور سلف صالحین پر حرف گیری ونکتہ چینی اس کا جماعتی عقیدہ بن جاتی ہے“۔(صفحہ 18 تا 20 جماعت اسلامی) اس کے بعد ارشد القادری صاحب نے مودودی صاحب کی نکتہ چینی کے نیچے آنے والی ہستیوں کے نام اور تنقید درج کی ہے۔امام ربانی مجدد الف ثانی، امام غزالی ، تمام محققین اسلام، تمام محدثین اسلام۔تمام آئمہ مجہتدین وفقہائے اسلام، تمام مجددین امت، حضرت عمر بن عبد العزیز ، حضرت خالد بن ولید ، عام صحابہ رسول صلیشه ای هستم من حضرت ابوبکر صدیق “ ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی ، حضرت علی ، قرآن مجید اور سرکار دو عالم رسول اللہ صلی لا رہی ہے، آپ نے صفحہ 24 سے صفحہ 46 پر یہ تنقیدی حوالہ جات درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ: مولانا مودودی ایک مطلق العنان فرماں روا کی طرح مسند احتساب پر متمکن ہیں اور ایک ایک شخص کی ہستی کا جائزہ لے رہے ہیں۔کسی کا نامہ زندگی بھی ان کی نظر میں بے داغ نہیں۔ہر شخص کسی نہ کسی الزام کی زد میں ہے۔مولا نا نکتہ چین دماغ کا تار جھنجھنا اٹھے گا اگر فتنہ پرداز ذہن لیکر اسی انداز میں کوئی ان پر بھی تنقید کرنے بیٹھ جائے۔۔۔۔۔مولانا مودودی کو وہ نگاہ مبارک جس کا کلسیاء کا چراغ لیکر کھبے کے پاسبانوں کا عیب تلاش کیا ہے“۔( جماعت اسلامی صفحہ 47 شائع کردہ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی کچا روڈ بلال گنج لاہور )