کافر کون؟ — Page 156
156 یوں پیش کرتے ہیں: ” مغرب سے مرعوبیت کے زیر اثر ہمارے ہاں تجدد پسندی (modrenism) اور انکار حدیث کا فتنہ ڈیڑھ سو سال سے پھیلایا جا رہا ہے اس کا آغاز تو سر سید احمد خان سے ہوا تھا پھر چند اور حضرات اسے آگے لے کر بڑھے پھر غلام احمد پرویز نے اسے خوب پروان چڑھایا اور اب جاوید احمد غامدی نے اسے ضلالت اور گمراہی کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔یہ فتنہ فتنہ ہزار رنگ ہے جو قادیانیت، پرویزیت ، مغربیت ،تجدد، اور اعتدال پسند روشن خیالی جیسے عنصر کا مرکب ہے“ جاوید احمد غامدی اور انکار حدیث مولفہ مولوی رفیق احمد ص 9 مکتبہ قرآنیات یوسف مارکیٹ غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور اہتمام حافظ تقی الدین) جماعت احمدیہ کے پس منظر میں دیو بندیوں کا اعتراض شیعہ پر اور شیعہ کا جواب دیو بندیوں کو، بریلویوں کا اعتراض دیوبندیوں پر اور جماعت اسلامی کا اعتراض پر ویزیوں پر اور بریلویوں کا اعتراض جماعت اسلامی پر۔اگر یہ سب بھی درست ہے تو پھر تقویٰ کہاں گیا ؟ اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کس چڑیا کا نام ہوا؟ مذہبی دنیا کی یہی اندھی مخالفت ہی میری تیسویں مشکل بن گئی ہے۔اسلام سیاسی حربے کے طور پر علامہ اقبال کا فتویٰ مشکل نمبر 31 وہ شخص جو دین کو سیاسی پرو پیگنڈے کا پردہ بناتا ہے وہ میرے نزدیک لعنتی ہے“۔( زنده رود صفحه 649) جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینا ایک دینی پروگرام کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ سیاسی عزائم کی خاطر ہوا اور یہ جانچ میری 31 ویں مشکل بن گئی۔1953 ء اسلام سیاسی حربے کے طور پر: پاکستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب جاوید اقبال اپنی تازہ کتاب یادیں میں اس سیاسی کھیل کا آنکھوں دیکھا حال یوں درج فرماتے ہیں: 1953ء میں ( تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران۔ناقل ) علماء نے ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پر قوت یا اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اینٹی احمد یہ موومنٹ تھی۔اس کے پیچھے بعض سیاسی عناصر تھے جن کا مقصد یہ تھا