کافر کون؟ — Page 138
138 مذہبی تاریخ کا یہ انوکھا مذاق مطالعہ کرتے ہیں۔جس عقیدے کی بناء پر قادیانی غیر مسلم ہیں اسی عقیدے کی بناء پر دیوبندی کیوں نہیں بریلوی اجتجاج بریلوی مکتبہ فکر کے ممتاز عالم دین جناب ارشد القادری جو ہندوستان کے شہر جمشید پور سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ ماہنامہ ”جام نور کے ایڈیٹر اور بیسیوں کتب کے مصنف ہیں۔آپ ہی کی تصنیف ”زیروز بر میرے سامنے ہے تفصیلی اقتباس درج ہے۔قادیانیوں کا یہ دعویٰ اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ وہ حضور اکرم کے خاتم النبین ہونے کا انکار نہیں کرتے بلکہ خاتم النبین کے اس معنی کا انکار کرتے ہیں جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اور اسی انکار پر انہیں ختم نبوت کا منکر کہا جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خاتم النبین کا وہ کون سا معنی ہے جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اور سب سے پہلے اس معنی کا انکار کس نے کیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں عقیدہ ختم نبوت کے خلاف مولا نا قاسم نانوتوی بانی دار العلوم دیوبند کی سازش بالکل بے نقاب ہو جاتی ہے۔ایک قادیانی مصنف مسئلہ زیر بحث میں ان کے موقف کی تحسین کرتے ہوئے لکھتا ہے: تمام مسلمان فرقوں کا اس پر اتفاق ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفی سالی یہ تم خاتم النبین ہیں کیوں کہ قرآن مجید کی نص ولكن مرسول اللہ وخاتم النبيين میں آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے۔نیز اس امر پر بھی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حضور کے لیے لفظ خاتم النبیین بطور مدح و فضیلت ذکر ہوا ہے اب سوال صرف یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں۔یقینا اس کے معنی ایسے ہی ہونے چاہئیں جن سے آنحضر سی ایم کی فضیلت اور مدح ثابت ہو“۔اسی بناء پر حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند نے عوام کے معنوں کو نا درست قرار دیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بائیں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول الله وخاتم النبيين فرما نا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے“۔(رسالہ خاتم النبین کے بہترین معنی صفحہ 4 شائع کردہ قادیان تحذیر الناس صفحہ 3 )