کافر کون؟

by Other Authors

Page 139 of 524

کافر کون؟ — Page 139

139 اب قادیانی جماعت کی طرف سے وہ خراج عقیدت ملاحظہ فرمائیے جسے اپنے مسلک کے پیش رو اور مقتدا کی حیثیت سے انہوں نے مولانا قاسم صاحب نانوتوی کے حضور پیش کیا ہے۔جماعت احمد یہ خاتم النبین کے مضمون کی تشریح میں اسی مسلک پر قائم ہے جو ہم نے سطور بالا میں جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے حوالہ جات سے ذکر کیا ہے۔(افادات قاسمه صفحه 6) ایک معمولی ذہن کا آدمی بھی اتنی بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مخالف کے مسلک پر قائم رہنے کا ہر گز عہد نہیں کر سکتا پیچھے چلنے کا یہ پر خلوص اعتراف اسی شخص کے حق میں متصور ہو سکتا ہے جسے ہم سفر اور مقتد سمجھا جائے۔ایک ہی تصویر کے دورخ اتنی تفصیل کے بعد اب مذکورہ بالا عبارتوں کا تجزیہ کیجئے تو بہت سی حیرت انگیز باتیں معلومات کے اجالے میں آجائیں گی۔پہلی بات تو یہ کہ مولانا قاسم نانوتوی کی صراحت کے مطابق خاتم النبیین کے لفظ سے حضور اکرم سلا یا اینم کو آخری نبی سمجھنا معاذ اللہ یہ نا سمجھ لوگوں کا خیال ہے۔امت کا سمجھ دار طبقہ خاتم النبین کے لفظ سے کچھ اور ہی معنی مراد لیتا ہے۔انہی سمجھ دار لوگوں میں ایک سمجھ دار مولانا نانوتوی بھی ہیں۔ل دوسری بات یہ کہ خاتم النبیین کے اجماعی معنی کو مسخ کر کے حضور کے آخری نبی ہونے کا انکار سب سے پہلے مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیو بند نے کیا ہے کیوں کہ قادیانیوں نے اگر انکار میں پہل کی ہوتی تو وہ ہرگز یہ اعتراف نہ کرتے کہ لفظ خاتم النبیین کے معنی کی تشریح کے سلسلے میں جماعت احمد یہ مولانا نانوتوی کے مسلک پر ہے۔تیسری بات یہ کہ خاتم النبین بمعنی آخری نبی کے انکار کے پس منظر میں مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا نانوتوی دونوں کے انداز فکر اور طریقہ استدلال میں پوری پوری یکسانیت ہے۔چنانچہ قادیانیوں کے یہاں بھی خاتم النبیین کے اصل مفہوم کو مسخ کرنے کے لیے حضور اکرم کی عظمت شان کا سہارا لیا گیا ہے اور نانوتوی صاحب بھی مقام مدح کہہ کر حضور کی شان عظمت ہی کو بنیاد بنارہے ہیں۔وہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاتم النبیین کے لفظ سے حضور کو آخری نبی سمجھنا، یہ معنی عام مسلمانوں میں رائج ہے اور یہاں بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ معنی عوام کے خیال میں ہیں۔اتنی عظیم مطابقتوں کے بعد اب کون کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلے میں دونوں کا نقطہ نظر الگ الگ ہے دنیا سے