کافر کون؟

by Other Authors

Page 104 of 524

کافر کون؟ — Page 104

104 1 - ” آپ نے امام مالک اور امام ابن حزم کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے اور اس سے جناب نے یہ سمجھا کہ وہ ان کے نزول کے بھی منکر ہوں گے مگر یہ میچ نہیں امام مالک اور امام ابن حزم دونوں اس اجماعی عقیدہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ سید نا عیسی آخری زمانہ میں نازل ہو نگے۔(صفحه 6) 2 - پھر صفحہ 20 پر بہت بزرگوں کے نزول والے حوالے درج کرنے کے بعد بحث کو یوں سمیٹتے ہیں : آنجناب نے مجموعہ مکاتیب اقبال جلد اول صفحہ 194 کے حوالے سے مولانا سید سلیمان ندوی کا فقرہ نقل کیا ہے کہ ابن حزم وفات مسیح کے قائل تھے ساتھ نزول کے بھی اگر یہ صورت بھی تجویز کی جائے تب بھی ہمیں مضر نہیں۔۔۔اصل بحث تو ان کے نزول ہی کی ہے۔(صفحه 20) مسیح" فوت بھی ہو گئے ہوں تب بھی لفظ نزول ان کو زندہ جسم سمیت آسمان سے اُتار لے گا مولانا یوسف لدھیانوی یہاں پہنچ کر ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہیں کہ لفظ نزول کی موجودگی اتنی ثقہ ہوتی ہے کہ یہاں موجود ہو وہاں لازماً معنی آسمان سے اترنے کے ہی ہوتے ہیں۔اگر مسیح فوت بھی ہو گئے ہیں تو بھی مذائقہ نہیں اس لفظ نزول کی وجہ سے لازماً آپ کو آسمان سے اترنا ہوگا۔آپ کا یہ قیمتی انکشاف آپ ہی کی زبانی ملاحظہ کریں: اصل بحث تو ان کے نزول ہی کی ہے۔حیات و وفات کا مسئلہ تو نزول یا عدم نزول کی تمہید ہے کیونکہ جولوگ حیات کے قائل ہیں وہ ان کے نزول ہی کی خاطر قائل ہیں اور جو لوگ وفات کے منکر ہیں ( غلطی سے اصل میں قائل۔ناقل ) ہیں ان کی اصل دلچسپی بھی انکار نزول سے ہی وابستہ ہے پس جبکہ امام ابن حزم نزول عیسی کے قائل ہیں تو گویا نتیجہ و مال میں اجماع امت کے ساتھ متفق ہیں۔(صفحه 20) اس اقرار کے بعد بتائیے کہ مال اور نتیجہ کے اعتبار سے میرے عقیدے پر کیا زد پڑی۔اور منکرین نزول مسیح کو ابن حزم کے موقف سے کیا نفع ہوا۔اگر نزول کے معنی آسمان سے اترنا ہے تو مندرجہ ذیل احادیث کے معنی امت کو سمجھا دیجئے : 1 - آنحضور سالا ایام کی ہجرت مدینہ کو بھی نزول سے ہی بیان کیا گیا ہے۔قد خرج من مكة ونزل شرب (صفحه 21)