کافر کون؟

by Other Authors

Page 103 of 524

کافر کون؟ — Page 103

103 رضا مفتی مصر، شیخ محمود الشلتوت مفتی و ڈائریکٹر جامعہ ازہر، شیخ مصطفی المراغی رئیس الازہر، علامہ عبدالوہاب نجار محمد اسد، مختلف ممالک کی تاریخ، طب کی تاریخ ، زمین سے برآمد ہونے والی دستاویزات، بائبل کی اندرونی گواہی اور اس کے ساتھ ساتھ نئے سائنسی علوم کے قوی دلائل رکھتی ہے۔یہ سارے علوم ملکر جماعت احمدیہ کے موقف کو اتنا مضبوط کرتے ہیں جن سے تعلیم یافتہ طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا چنا نچہ ڈاکٹر علامہ اقبال کو بھی یہ اقرار کرنا پڑا کہ: ”مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسی ایک فانی انسان کی مانند جام مرگ نوش فرما چکے ہیں۔نیز یہ کہ ان کے دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے ان کا ایک مثیل پیدا ہو گا۔کسی حد تک معقولیت کا رنگ لئے ہوئے ہے“۔اخبار آزاد 6 اپریل 1950 ء ) جب یہ نظریہ معقول ہے تو ختم نبوت حضوری باغ والوں کے عقیدے کا کیا بنے گا اور پھر اسی بناء پر کافر اور منکر کے آوازے کیوں ؟ یہی بات میری نویں مشکل۔ہے۔مشکل نمبر 10 زندہ آسمان پر جانا اور 2000 سال گزار کر واپس آنا بذریعہ لفظ نزول ایک لا حاصل اور جھنجھلاہٹ آمیز کوشش قرآن وحدیث میں کہیں لفظ آسمان کا ذکر نہ پانے کے بعد اور توفی کے معنی میں بھی آسمان کی گنجائش نہ پیدا ہونے کے سبب اگلی کوشش لفظ نزول پر کی گئی اور خیال کر لیا گیا ہے کہ نزول کے معنی آسمان سے اترنے کے ہیں اور پھر ساتھ یہ خود بخو دلازم ہو گیا کہ زندہ آسمان سے وہی اترے گا جو چڑھا ہوگا اور یوں خود ہی نزول کے معنی آسمان سے اترنا اور خود ہی چڑھنا بنالئے اور خود ہی اسے حیات مسیح کے لیے دلیل بھی تجویز کر لیا۔چنانچہ جماعت احمدیہ کا مخالف کیمپ جہاں جہاں مسیح کے لئے نزول کا لفظ لکھا دیکھتے ہیں جھٹ سے دلیل پیش کر دیتے ہیں کہ دیکھ لیں فلاں بزرگ بھی مسیح کے آسمان پر چڑھنے کے قائل ہیں اور فلاں بھی اور ایک تم ہو کہ صاف منکر ہو۔ایک خود ساختہ کہانی کا خود ساختہ انجام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ جناب یوسف لدھیانوی صاحب کو کسی دوست نے خط لکھا کہ بہت سے بزرگان امت وفات مسیح کے قائل تھے اور دوسری بات یہ کہ آسمان پر جانے کا کہیں ذکر اسلامی لٹریچر میں نہیں ملتا۔مولانا نے نزول عیسیٰ علیہ السلام چند شبہات کا جواب“ کے نام سے پورا رسالہ لکھ ڈالا اور آسمان سے جانے اور آنے کی دلیل کے طور پر لفظ نزول کا سہارا لیا اور ان تمام بزرگوں کا ذکر فرمایا جونزول مسیح کے قائل تھے چنانچہ آپ نے لکھا۔