کافر کون؟ — Page 422
422 کہ وضو جلدی کریں نماز کا وقت ہو گیا ہے جس پر ہم دونوں سمجھے کہ مسجد ہے۔اندر چلے گئے اور وہاں پر موجود ایک سفید داڑھی والے شخص نے کہا کہ نماز کے بعد درس بھی ہو گا۔وہاں پر چند افراد نماز پڑھنے کے لیے تیار کھڑے تھے اور ہم مسجد کے آثار نہ پا کر باہر آ گئے۔جب اس گھر سے باہر نکلے تومسمی عابد علی ولد صادق ساکن مغلپورہ سے ملاقات ہوئی جس سے ہم نے اس گھر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہاں پر مرزائی عرصہ دراز سے اکٹھے ہوکر نماز پڑھتے اور آذان بھی ہوتی ہے۔زیر دفعہ 298C قانون نے فوری حرکت کی۔مجرمین جواکثر سن رسیدہ لوگ تھے کو گرفتار کر کے ایبٹ جیل کی سرد بیرکوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔یوں جب یہ لوگ ڈھائی مہینے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے تو خوفناک سردیوں کا موسم جا چکا تھا۔ادھر صرف لاہور کی ہیرا منڈی میں ہزاروں افرا در روزانہ جسم خرید نے جاتے ہیں۔بلکہ اب تو ہیرا منڈی ہی نہیں لاہور کے سارے ماڈرن علاقوں میں جسم سکتے ہیں مجاہد عظیم ضیاء الحق کے دور میں نہ صرف یہ منڈی برقرار رہی بلکہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی رہی۔سر عام منعقد ہونے والی اسلامی مملکت خدا داد کے ماڈرن لوگوں کی ماڈرن گیم جس میں روزانہ ہزاروں کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔حامد میر اپنے کالم قلم کمان روز نامہ پاکستان میں صحافی بشیر احمد کی کتاب ” ملے تھے جو راستے میں پر لگنے والے کفر کے فتووں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں اس کتاب میں احمد بشیر نے بتایا ہے کس طرح مولانا چراغ حسن حسرت انہیں ایک شراب خانے میں بعد ازاں گانا سننے کیلئے لاہور کی ہیرا منڈی میں لے گئے۔۔۔حسب توقع مختلف مذہبی لیڈروں اور علمائے کرام نے احمد بشیر پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے ہیں اور شراب نوشی کے الزام میں انہیں کوڑے مارنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔حالانکہ جس زمانے میں احمد بشیر اور مولانا چراغ حسن حسرت نے شراب نوشی کی اس زمانے میں شراب کھلے عام ملا کرتی تھی اور اس پر کوئی پابندی نہ تھی۔انہوں نے ہیرا منڈی میں گانا سنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔جس زمانے میں وہ اپنے استاد مولانا چراغ حسن حسرت کے ہمراہ ہیرا منڈی گئے اس زمانے میں چند سو افراد یہ شغل کیا کرتے تھے۔لیکن آجکل تو لاہور کی ہیرا منڈی میں روزانہ ہزاروں افراد جاتے ہیں جن کی اکثریت گانا سننے کی شوقین نہیں ہوتی بلکہ جسموں کی گا ہک ہوتی ہے۔بلکہ اب تو صرف ہیرا منڈی نہیں بلکہ لاہور کے اکثر ماڈرن علاقوں میں جسم بکتے ہیں۔