کافر کون؟ — Page 423
423 ہیرا منڈی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے روکنے کیلئے آج تک کسی حکومت یا مذہبی جماعت نے کوئی ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ پیش کیا نہ ہی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔اسلام کے عظیم مجاہد جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہیرا منڈی نہ صرف برقرار رہی بلکہ پھیلتی رہی اور اس کی رونقوں میں مزید اضافہ ہوا یہی دور تھا جب اسلام آباد بھی ایک سیاسی ہیرا منڈی کی صورت اختیار کر گیا۔فرق صرف یہ تھا وہاں جسموں کی بجائے ضمیر بکنے شروع ہو گئے۔ہمارے علماء کرام کے پاس جنرل ضیاء الحق کے دور میں سنہری موقع تھا کہ وہ شراب پر مکمل پابندی لگواتے اور سیاسی وغیر سیاسی ہیرا منڈیاں بند کرواتے لیکن افسوس کہ ان گیارہ سالوں میں ہر برائی آگئی لیکن اسلام نہ آیا۔“ تبصرہ بند دروازوں کے پیچھے سے آنے والی آواز کہ وضو کر لیں پر دلی جذبات مجروح کروانے والے دوستو یہ کھلے دروازوں سے آنے والی پائل کی جھنکاریں کیا کہہ رہی ہیں؟ یہ حسن اور بازار کے حسن کے پھیلتے ہوئے سائے مکافات عمل تو نہیں کہ جن کو وضو کے حسن سے نفرت ہو جائے ان کو ہیرا منڈی کے حسن سے دل بہلانا پڑتا ہے۔کب دبد بهہ جبر سے دبدتے ہیں کہ جن کے ایمان ویقین دل میں کئے رہتے ہیں تنویر معلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دن ظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیر 8۔اُدھر کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ضلع لاڑکانہ کے 2 قادیانی سر عام چوک میں سکوٹر پر قرآنی آیت کے سٹکر کے ساتھ پائے گئے۔بے باک جرم پر قانون حرکت میں 295A-298C اور 295C کے تحت گرفتار کر کے کال کوٹھڑی کی سلاخوں کے پیچھے بند۔یوں تو اسلامی مملکت خداداد کے کونے کونے میں بکھرے قادیانیوں کی مجرمانہ حرکات کا ہم نے جائزہ لیا مگر ضلع لاڑکانہ کے ان مذکور دو قادیانیوں نے تو اس بے باکی سے جرم کر کے پاکستان کی جرم سازی کی تاریخ میں انو کھا ریکارڈ قائم کر دیا ہے یعنی فدایان ختم نبوت نے دیکھا کہ ایک قادیانی جس کے سکوٹر پر الیس الله بکاف عبدہ کا سٹکر لگا ہوا ہے وہ ایک مسجد میں گئے اور وہاں جا کر امام مسجد محافظ شریعت اسلامیہ کو اطلاع دی۔امام صاحب مسجد سے نکل کر معین چوک میں آئے اور یہ قادیانی اتنا لمبا عرصہ اسی چوک میں کھٹر اسکوٹرسمیت مسلسل جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔