کافر کون؟ — Page 421
421 درود شریف سے جذبات مجروح کروا لینے والو یاد رکھو! کہ حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیر خاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیز کچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانا مردان صفاکیش سے ہے رشتہ زنجیر 7۔اُدھر گھر کے اندر سے آواز آئی کہ وضو جلدی کریں نماز کا وقت ہو گیا ہے اور نماز کے بعد درس قرآن بھی ہوگا۔ابیٹ آباد، وادی ہزارہ کے 9 عمر رسیدہ قادیانیوں کی ایک اور مجرمانہ حرکت قانون حرکت میں 298C کے تحت 9 قادیانیوں کو پکڑ کر واصل زندان ڈھائی ماہ کے بعد عقل ٹھکانے آنے پر ہائی کورٹ سے رہائی وادی ہزارہ خوبصورت پھولوں ، پودوں آبشاروں اور میٹھے جھرنوں کی سرزمین ہے۔کسی زمانہ میں صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق و علماء کرام نے یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ انہوں نے اس پیاری سرز مین کو قادیانیوں سے پاک کر دیا ہے۔مار پیٹ کر یہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے اور جو باقی بچے ان کے گھروں کو ہم نے لوٹ کر آگ لگادی ہے یوں یہ سرزمین اب ”مجرمانہ حرکات کرنے والے قادیانیوں سے بالکل پاک ہوگئی ہے۔مگر ہماری حیرت کی انتہاء ہی نہ رہی جب ہمیں یہ خبر ملی کہ اسی وادی کے شہر ایبٹ آباد کے ایک کمرے میں 9 احمدی چھپ کر مجرمانہ افعال سرزد کرنے میں مصروف تھے۔وہ تو بھلا ہو ہمارے حاضر باش علماء کا جن کی عقابی نگاہوں اور ابابیلی کا نوں نے اونچی دیواروں کے پیچھے اور بند کمروں کے اندر سے آنے والی حرکات کو محسوس کر کے دلی جذبات مجرح کروا لیئے۔اگر یہ جذبات مجروح نہ ہوتے تو نہ جانے اور کتنے سال یہ پیرانہ سال لوگ ایسی ہی دل آزار حرکات کرتے رہتے۔تفصیل پیش ہے۔17 جنوری 1996ء کو تھا نہ ایبٹ آباد میں وقار گلی جدون صدر تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کی تحریری درخواست پر زیر دفعه 298C F۔IR مندرجہ ذیل افراد پر کاٹی گئی۔1 - محمد احمد بھٹی 2 مبشر احمد 3۔ابرار 5۔انور احمد بھٹی 6۔مدثر احمد 7 - شیر از احمد 9۔شوکت احمد 4۔احمد بھٹی 8۔اعجاز احمد تحریری درخواست میں لکھا گیا کہ وہ اپنے دوست مسمی اعجاز احمد ساکنہ اقبال روڈ کو ملنے آیا۔جو نہ ملا جس پر ہم واپس جارہے تھے کہ ایک مکان 77 تنولی ہاؤس جس کے باہر تنولی ہاؤس لکھا ہوا تھا جو اقبال روڈ پر واقع ہے کے قریب پہنچے تو اندر سے آواز آئی