کافر کون؟ — Page 295
295 ان خود ساختہ علامہ صاحب کے کویتی سر پرستوں کو تو ہم نے مباہلہ کا چیلنج پہلے سے دے رکھا ہے۔اب ہم ان کے پیش کردہ نہ صرف جملہ نکات پر ان کے مباہلہ کا چیلنج قبول کرتے ہیں بلکہ ان نکات میں ان حضرات کے بد نام زمانہ کردار کا اضافہ کر کے اس کو بھی شامل مباہلہ کرتے ہیں یعنی : ا۔کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک میں اس شخص نے قومی اتحاد کی جاسوسی کے عوض بھٹو حکومت سے لاکھوں روپے رشوت نہ لی۔ii۔یورپ کے نائٹ کلبوں میں پاکستان کے یہ علامہ کیا گل کھلاتے رہے ہیں۔ili۔اپنے گھر میں نوجوان نوکرانیوں کے قصوں کے بارے میں مباہلہ کی جرات پاتا ہے۔علاوہ ازیں ان جملہ خدمات کے ثبوت کے عینی شاہد ان حضرت کے منہ پر یہ باتیں بیان کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن چونکہ بات مباہلہ تک پہنچ چکی ہے اس لیے مباہلہ میں مولویت کے لبادے میں اس فتنہ پرور آدمی کے کردار سے پردہ اٹھ ہی جانا چاہیے جس کے باعث جماعت اہل حدیث بری طرح انتشار کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔احسان ظہیر نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے گھناونے کردار کو چھپانے کے لیے خود پہلا وار کرنا مناسب سمجھا اور بوکھلا کر خود ہی مباہلہ کا چیلنج دے دیا۔یوں معلوم ہوتا ہے یہ شخص جس کی دراز دستیوں اور زبان درازیوں کی ابتداء اپنے ہی باپ پر زیادتی سے ہوئی تھی اپنے انجام کو جلد پہنچنا چاہتا ہے۔(ہفت روزہ اہل حدیث لاہور شمارہ 13 اگست 1984 ، صفحہ 5-7 مضمون نگار حافظ عبدالرحمن) 3 - آغا شورش کا شمیری مجاہد ختم نبوت نہیں اُس بازار کا باسی، گستاخ رسول، بانی فساد، مندروں کا پرشاد کھانے والا ، نہرو کو یا رسول کہنے والا، تہذیب و شرم سے ننگا۔آغا شورش کشمیری دیوبندی بھائیوں کے نزدیک بطل حریت اور مجاہد ختم نبوت تھے جبکہ بریلوی علماء کے نزدیک ان کی کیا تصویر تھی۔اشعار کے قالب میں ملاحظہ ہو۔گزری ہے اُس بازار ہی میں جس کی زندگی ہم کو سنا رہا ہے وہ باتیں کھری کھری ہاتھوں میں لے کر پرچم گستاخی رسول کرنے لگا ہے دہر یہ ظاہر شناوری میں پوچھتا ہوں اُس کے اے بانی فساد کب سے ملی ہے تجھ کو سند علم دین کی پر شاد“ مندروں کے بتا کون کھا گیا ہندو کی مہر کس کی جبیں پر بتا لگی نہرو کو بتا یا رسول“ کس نے تھا کہا روندی تھی کس نے سوچ رسالت کی برتری ننگے ہوئے خود ہی شرافت کے نام پر تہذیب و شرم تم میں ذرا بھی نہیں رہی مذہب کا سرطان صفحہ 83-84 مصنفہ کوثر جمال ناشرلڑکیاں کہانیاں پہلی کمیشنز ساندہ کلاں لاہور )