کافر کون؟ — Page 296
296 سید محمد ایوب تنها کپورتھلوی مشہور بریلوی شاعر عالم دین شورش کشمیری صاحب کی اخلاقی تصویر یوں بناتے ہیں: احمد رضا کی شان سے تو آشنا کہاں جا سونگھ ہندوؤں کی لنگوٹی سڑی ہوئی سکے ترا رسول ہیں سکے ترا خدا جس نے ذرا دکھا دیئے وہ تیری پارٹی تو نے تو دم بھرا ہے سدا کفر کا خبیث مسلم کے ساتھ کب سے ہوا ہے کھتری (رسالہ شورش عرف بھاڑے کا ٹو مصنفہ غلام المشائخ جناب شاہ محمد عامی سرہندی و جناب سید محمد ایوب تنها کپور تھلوی صفحہ 7-8 بحوالہ مذہب کے نام پر خون صفحہ 217-218 4۔مولانا طاہر القادری قائد انقلاب نہیں خود غرض۔جھوٹا۔دولت کا پجاری۔ناشکرا خود پرست اور ان کی مذہب سے محبت محض ڈھونگ ہے منہاج القرآن سے وابستہ لوگ انہیں قائد انقلاب کے روپ میں دیکھتے ہیں جبکہ ان کے قریبی دوست بلکہ دست راست مشہور بریلوی عالم دین نے عدالت عالیہ میں ان کی کیا تصویر کشی کی۔ملک فیض الحسن جی ڈبلیو 15 نے جن کے مسٹر قادری کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں اور جنہوں نے ادارہ منہاج القرآن کی تشکیل و تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔اپنے بیان میں مسٹر قادری کو احسان فراموش، ناشکرا، خود غرض، جھوٹا، دولت کا پجاری ، خود پرست اور شہرت کا بھوکا انسان قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مسٹر قادری سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑے بے قرار تھے۔سیاست میں آنے کا انہیں انتہائی شوق تھا اور یہ کہ مذہب سے اس کی صحبت محض ایک ڈھونگ ہے۔( مذہب کا سرطان مصنفہ کوثر جمال صفحہ 46 نقل فیصلہ ہائی کورٹ از اختر حسن حج یک رکنی ٹربیونل مورخہ 08-08-09) 5 - مولا نا اختر علی خاں ابن مولانا ظفر علی خاں پروانہ ختم نبوت نہیں بلکہ ناہنجار کا بچہ، بازار کا بچہ، غدار ابن غدار، بد کار کا بچہ، کمین نمی فروش، کذاب خائن کمہار کا کتا ہے مولانا ظفر علی خاں کے صاحبزادے مولا نا اختر علی خاں کو بعض دیوبندی حلقے بلند پایہ صحافی ، عالم دین اور شمع ختم نبوت کے پروانہ قرار دیتے ہیں۔مگر دوسرے ممتاز دیو بندی جو خود بھی پروانہ ختم نبوت ہیں یعنی شورش کا شمیری صاحب وہ آپ کی تصویر کو اشعار اور نثر میں کس قالب میں سموتے ہیں ملاحظہ ہو۔شورش کا شمیری صاحب نے ہفت روزہ چٹان کے 19 مئی 1952 ء کے شمارہ 20 کا ایک ضمیمہ شائع کیا جس کے صفحہ اول پر کرم آباد کا کمہار کے نام پر مولانا اختر علی کو یوں مخاطب فرمایا : گلاب و یاسمین سے کھیلتا ہے خار کا بچہ کرم آباد کی اولاد ناہنجار کا بچہ