کافر کون؟ — Page 294
294 1۔عطاء اللہ شاہ بخاری نہیں بخار اللہ شاہ عطائی روزنامہ انقلاب کی نظر میں عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی تصویر کچھ یوں ہے : ”مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری ( بخار اللہ شاہ عطائی) کے خلاف یہ شکایت روز بروز عام ہو رہی ہے کہ وہ بزرگان دین اور ا کا بر امت اسلام کا ذکر کرتے ہوئے مستی اور بے تکلفی کے عالم میں نازیبا انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ہمیں بے شمار احباب نے یہ بتایا کہ مولوی صاحب مذکور حضور کے لیے میاں کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ہم نے ایک دفعہ اپنے کانوں سے سنا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علیؓ کا ذکر کرتے ہوئے مولوی عطائی نے اولذکر کو بڈھڑا اور آخر الذکر کو نڈھڑا بتایا۔یہ انداز خطابت نہایت گستاخانہ وغیر مود بانہ ہے اور جو شخص حفظ مراتب نہیں کرتا اس کی زندیقیت میں کسی کو ہبہ نہیں۔کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ اس بے ادب کو برسر جلسہ ٹوک ہی دے۔خدا جانے یہ احرار مسلمانوں کے اخلاق کو اسفل کی کن گہرائیوں میں دفن کر کے رہیں گے۔جب تک قوم خود اپنا مذاق درست نہ کرلے گی اس قوم کے خود غرض فرعون برابر اس پر مسلط رہیں گئے۔اخبار انقلاب 5 اگست 1936 ء ) 2۔رسالہ صوفی کی نظر میں بخاری صاحب کی تقریر ”سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تقریر میں ذلیل گالیاں ہوتی ہیں عدالت کی نظر میں یہ شخص کمینہ مذاق روا رکھتا ہے۔(رسالہ صوفی 18 جون 1936 ء ) -3 علامہ احسان الہی ظہیر علامہ نہیں شریر، چھچھورا، راشی، نائٹ کلبوں کا رسیا، نوجوان نوکرانیوں سے وابستہ اور مولویت کے لبادے میں فتنہ پرور آدمی علامہ احسان الہی ظہیر اہل حدیث کے ایک طبقے کے نزدیک مبلغ اسلام تھے جبکہ اہل حدیث کے دوسرے بڑے گروہ کے نزدیک ان کی اخلاقی تصویر کیا ہے وہ پیش ہے۔میاں فضل حق صاحب اہل حدیث پاکستان کے راہنما اور سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ہفت روزہ اہل حدیث لا ہور ان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے اس پرچے کا شمارہ 3 اگست 1984ء ہمارے پیش نظر ہے اس میں صفحہ پانچ سے سات تک حافظ عبدالرحمن مولوی فاضل مدینہ یونیورسٹی کا ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے۔احسان الہی ظہیر کے لیے چیلنج مباہلہ“ ذیل میں اس کے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس شخص کی محبت میں نہیں بلکہ اس کے شر سے بچنے کے لیے اسے سلام کرنے کی روادار ہے۔چنانچہ اس کے پیچھورے پن کا یہ عالم کہ بات بات پر لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔