کافر کون؟ — Page 280
280 میں کانفرنس 1870ء میں ہوئی۔جس کے بعد راستہ ہموار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس خدمت کے لیے دار العلوم دیو بند کے بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی کی ڈیوٹی لگائی گئی جنہوں نے تحذیر الناس لکھ کر وہ راہ ہموار کر دی۔میری عرض صرف اتنی ہے کہ تحذیر الناس تو 1870 ء سے کئی سال پہلے سے دنیا میں موجود تھی۔کیسی لگی؟ ہے ناں مزے کی بات۔6۔بریلوی علماء دین کی تحقیق جاری ہے۔ممتاز عالم دین اور مشہور مناظر جناب محمد ضیاء اللہ صاحب قادری مہتمم دارالعلوم قادر یہ سیالکوٹ اپنی دور بین نگاہ سے فضائی تاریخی جائزہ لینے کے بعد فرماتے ہیں کہ مولانامحمد شوکت چشتی صاحب کی تحقیق بھی غلط ہے۔انگریزوں نے تو تلاش نبی کا کام حضرت سید احمد شہید بالا کوٹ اور حضرت اسمعیل دہلوی کے سپرد کیا تھا۔آپ کی ” تاریخ فرسا تاریخی تحقیق ملاحظہ ہو۔سرولیم ہنٹر کی رپورٹ اور تجویز اور پادری صاحبان کی تجویز دونوں کو ذہن نشین رکھ کر اور بعد ازاں سید احمد بریلوی اور مولوی اسمعیل دہلوی نے نام نہاد جو تحریک چلائی اس کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ انگریزوں نے سب سے پہلے ان دو حضرات کو اپنے مشن میں کامیابی کے لیے چنا۔دہلی کی جامع مسجد میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والے اسماعیل دہلوی تھے۔پادریوں کی پیری مریدی کے سلسلہ والی تجویز اسی اسماعیل دہلوی نے سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا کیونکہ اسماعیل دہلوی نے اپنے آپ کو سید احمد کا مرید ظاہر کرنا شروع کر دیا اور پیری کا چکر چلایا۔اس سلسلے میں ایک کتاب صراط مستقیم کے نام سے بھی لکھ دی تا کہ انگریز کو پورا پورا یقین ہو جائے۔“ تبصره ( نجد سے قادیان براستہ دیو بند صفحه 62 ناشر قادری کتب خانہ سیالکوٹ از ضیاء اللہ قادری ) بریلوی حلقہ جناب ضیاء اللہ صاحب کو افتخار قادریت، شمع بزم رضویت عندلیب بوستان مصطفی کے معرکتہ الاراء خطابات سے یاد کرتا ہے بلکہ آپ کا مزید مرتبہ یہ ہے کہ فرشتے آپ کے لبوں کے بوسے لیتے ہیں۔جیسے شاعر آپ کی شان بیان فرماتا ہے۔قدی کیوں بو سے نہ لیں تیرے لبوں کے اے عزیز تجھ کو بخشا ہے مقدر نے بیان مصطفیٰ ( الوہابیت صفحہ 3 مصنفہ ضیاء اللہ قادری ناشر قادری کتب خانه تحصیل بازار سیالکوٹ) چونکہ مقدر نے آپ کو قوت بیان عطا فرمائی اس لیے آپ کچھ بھی فرما سکتے ہیں ہم تاریخ کے ادنیٰ طالب علم صرف اتنا عرض کرتے ہیں۔