کافر کون؟ — Page 279
279 انہیں معنوں کو استعمال کر کے ایک شخص کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ نبی بنادیا گیا۔تاریخ کے چہرے پر پڑے نقاب کو تار تار کر دینے والی اصلی رپورٹ ملاحظہ ہو۔اس رپورٹ کے مطابق انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ جب تک کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز نہیں کر دیا جاتا ہم اپنے پروگرام میں کلی طور پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔لہذا کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز کرنے سے قبل راستہ ہموار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس خدمت کو دار العلوم دیوبند انڈیا کے بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی نے جمیع مسلمانوں کے عقائد ونظریات کے خلاف خوب نبھایا اور اپنی تحریر سے نئی نبوت کی داغ بیل یوں ڈال دی۔غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا، بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور بنی ہو جب آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہے گا۔“ (تحذیر الناس ) بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ابھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا“۔(تحذیر الناس) بعد حمد وصلوٰۃ کے قبل یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبین معلوم کرنا چاہئیں تا کہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ لی لی ایم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولكن رسول الله وخاتم النبين فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے“۔(تحذیر الناس) مذکورہ عبارات ثابت کر رہی ہیں۔اہل فہم وہی لوگ ہیں جو خاتم النبین کے معنی آخری نبی نہیں ان میں صرف قاسم نانوتوی۔۔۔۔۔ہیں فرنگی حکومت نے خود ساختہ نبوت کا راستہ ہموار کرلیا۔مدلل تقریر صفحہ 56-57 مولفہ الحاج میاں محمد شوکت علی چشتی نظامی ناشر شعبہ نشر واشاعت مرکزی جماعت رضائے غریب نواز فیصل آباد) تبصره یوں تو مولانا شوکت صاحب حاجی بھی ہیں۔امام مسجد بھی ہیں۔ایک دینی جماعت کے بانی بھی ہیں ایم۔اے الگ سے ہیں۔اور مریدین کی نظر میں آپ قبلہ و کعبہ مرشد برحق اور ضیغم اسلام جیسے بلند ٹائیل سے مزین وو ہیں اس لیے آپ کچھ بھی ارشاد فرما سکتے ہیں۔میری گستاخی صرف اتنی سی ہے کہ مولا نا صاحب وائٹ ہاؤس لندن