کافر کون؟

by Other Authors

Page 281 of 524

کافر کون؟ — Page 281

281 کا نفرنس تو 1870ء میں ہوئی۔جبکہ حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسمیعل دہلوی تو مئی 1831ء میں ہی فوت ہو گئے تھے یعنی مولانا قاسم نانوتوی کی پیدائش سے بھی 2 سال قبل۔میرا خیال ہے فرق صرف 40 سال کا ہے۔بڑے بڑے تاریخی واقعات میں اتنی اونچ نیچ تو ہو ہی جاتی ہے۔چلو ایسے ہی سہی۔7 - سید محمد سلطان شاہ صاحب جیسا کہنہ مشق محقق سب علماء دین سے ناراض ہے۔آپ کے خیال میں اوپر درج سب بیانات شرمناک فراڈ ہیں۔آپ کی تحقیق کے مطابق وائٹ ہاؤس کانفرنس کے بعد برٹش سنٹرل انٹیلی جنس حرکت میں آگئی اور انہوں نے نبی ڈھونڈنے کا کام ڈی سی سیالکوٹ کے ذمہ لگایا۔جس نے باقاعدہ ٹینڈر کیا اور آسامیوں سے انٹرویو لئے جن میں سے مرزا صاحب میرٹ پر سب سے اول نمبر لیکر پاس ہوئے۔نئے لوگوں کی نئی تحقیق ملاحظہ ہو: " برطانوی ہند کی سنٹرل اینٹلی جنس کی روایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے چار اشخاص کو انٹرویو کے لیے طلب کیا ان میں سے مرزا صاحب نبوت کے لیے نامزد ہوئے۔“ بھٹو اور قادیانی مسئلہ صفحہ 42-43 اشاعت اول اگست 1993 ء ناشر میر شکیل الرحمن جنگ پبلشرز لاہور ) شاہ صاحب کے خیالات پڑھ کر مجھے ایمرسن کا قول ایک دفعہ پھر شدت سے یاد آنے لگ گیا ہے کہ دو عقل کی حد ہو سکتی ہے مگر بے عقلی کی نہیں 8۔روزنامہ خبریں بھی اس جاری چشمہ سے کچھ نہ کچھ فیض حاصل کر کے اپنی عاقبت میں سیونگ اکاونٹ کھولنا چاہتا تھا چنانچہ انگریز اور انگریزی نبی کی تیاری کے متعلق آپ کی ریسرچ ملاحظہ ہو۔مگر اس ریسرچ کی چاشنی سے کماحقہ حظ اٹھانے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مرزا صاحب کا انتقال 1934 ء سے 26 سال قبل 26 مئی 1908ء کو ہوا۔اب آپ مجاہد ختم نبوت کی تحریر ملاحظہ کریں۔1934ء میں انگریزوں نے غلام احمد قادیانی کو جب سیالکوٹ کی کچہری سے اٹھا کر جھوٹی نبوت کے منصب پر فائز کر دیا تو امیر شریعت ناموس رسول پر حملہ آور اس نئے فتنے کی سرکوبی کے لیے میدان میں اتر آئے“۔( روزنامہ خبریں اشاعت خاص 27 مئی 1995 ، صفحہ 2 صرف وائٹ ہاؤس لندن کے حوالے سے ہی علماء دانشور۔اور صحافی حضرات کی موشگافیوں پر بات جاری رکھی جائے تو بھی کافی طویل مقالہ احاطہ تحریر میں آجائے گا۔اوپر درج چند ایک مستند حضرات کی دیانتداری کے نمونہ کو دیکھنے کے بعد مجھے مشہور برطانوی مفکر پوپ الیگزانڈر کا یہ قول شدت سے یاد آرہا ہے کہ ایسے لوگ جو اعلیٰ قابلیت رکھتے ہوئے بد اطوار و پست کردار ہوتے ہیں ان کی مثال ان سڑی گلی ہڈیوں کی سی