جوئے شیریں — Page 62
ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز توئیں کر دوں انجام خدا جانے یہ درد رہے گا ان کے دروان میکرو وقت آنے دو دشمن کو ظلم کی بڑ ھی سے تم سینہ و دل بربانے دو یہ درد رہے گا بن کے دُور تم صبر کر وقت آنے دو یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی نوں سنے بغیر نہ بنیں گے اس راہ میں جان کی کیا پروا جاتی ہے اگر تو جانے دو تم دیکھو گے کہ انہیں میں سے قطرات محبت ٹیکیں گے با دل آفات و صائب کے چھاتے میں اگر تو چھانے دو صادق ہے اگر تو صدق دکھا قربانی کر ہر خواہش کی ہیں جنسِ وفا کے ناپنے کے دنیا میں یہی پیمانے دو جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جیل جانے دو