جوئے شیریں — Page 63
عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فادہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو یہ زخم تمہارے سینوں کے بن جائیں گے شکر چمن اس دن ہے قادر مطلق یار مرا تم میرے یار کو آنے دو جو بچے مومن بن جاتے ہیں موت بھی ان سے ڈرتی ہے تم سچے مومن بن جاؤ اور شوق کو پاس نہ آنے دو یا صدق محمد بولی ہے یا احمد مہندی کی ہے وقا باقی تو پرانے قصتے ہیں تازہ ہیں یہی افسانے دو وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی کسستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو محمود اگر منزل ہے کٹھن تو راہ نما بھی کال ہے تم اس پر بھروسہ کر کے چلو آفات کا خیال ہی جادو