جوئے شیریں

by Other Authors

Page 61 of 107

جوئے شیریں — Page 61

41 آہ کیسی خوشی گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں گلشن احمد کے پھولوں کی اڑا لائی ہوا زخم تازہ کر گئی بادصبائے قادیاں جب کبھی تم کو ملے موقعہ دُعائے خاص کا یاد کر لیتا ہمیں اہل وفائے قادیاں تعریف کے قابل ہیں یارب تیرے دیوانے تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے آباد ہوئے چین سے دُنیا کے ہیں ویرانے فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اجاڑا ہے آباد کریں گے آپ دیوانے یہ ویرانے ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دُنیا کے پروانے