جوئے شیریں — Page 52
۵۲ بطحا کی وادیوں سے جو نکلا تھا آفتاب بڑھتار ہے وہ نور نبوت خُدا کرے قائم ہو پھر سے حکیم محمد جہان میں ضائع نہ ہو تمہاری یہ محنت خدا کرے تم ہوندا کے ساتھ خدا ہو تمہارے ساتھ موں تم سے ایسے وقت میں نعمت خدا کے اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ مت کے اس خدائی پہ رحمت خدا کرے شکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ عب شکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ اہل شیطان نہ بنو اہل خدا ہو جاؤ گرتے پڑتے دَر مولے یہ رسا ہو جاؤ اور پروانے کی مانند فدا ہو جاؤ