جوئے شیریں — Page 53
۵۳ جو ہیں خالق سے خفا اُن سے خفا ہو جاؤ جو ہیں اس در سے جُدا اُن سے جدا ہو جاؤ حق کے پیاسوں کے لئے آپ بقا ہو جاؤ خشک کھیتوں کے لئے کالی گھٹا ہو جاؤ قطب کا کام دو تم شکست و تاریخی میں بھولے بھٹکوں کے لئے راہ نما ہو جاؤ راہ مولے میں جو مرتے ہیں وہی جیتے ہیں موت کے آنے سے پہلے ہی فنا ہو جاؤ مورد فضل و کرم وارث ایمان و بری عاشق احمد و محبوب خدا ہو جاؤ