جوئے شیریں — Page 59
ترا وہ فضل ہو نا زل الہی کہ ہو یہ شور ہر کون ومکاں میں خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی نيمان الذى أولى الاماني جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جاناہے ہیں غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں اخیار کا بھی بوجھ اُٹھانا پڑے ہمیں اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اسے خدا جس میں کہ تیرا نام چھپا نا پڑے ہمیں پھیلائیں گے صداقت اسلام کچھ بھی ہو جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہیں محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار رُوئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں