جوئے شیریں — Page 60
قادیان کی یاد میں ہے رضائے ذاتِ باری آب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالے مدعائے قادیاں وہ ہے خوش اموال پر یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی افضل ہے گدائے قادیاں گر نہیں عرش معلی سے یہ ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گو محبتی ہے کیوں صدائے قادیاں میرے پیارے دوستو تم دم نہ لینا جب تلک ساری دنیا میں نہ لہرائے لوائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں