جوئے شیریں

by Other Authors

Page 46 of 107

جوئے شیریں — Page 46

میں دنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ مگر میں خدا چاہتا ہوں میں اپنے سیہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق وفا چاہتا ہوں جو پھر سے سرا کر دے سر خشک پودا چمن کے لئے وہ صبا چاہتا ہوں مجھے بیر ہرگز نہیں ہے کسی سے میں دنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں ور ہی خاک جس سے بنا میرا پتلا میں اس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں نکالا مجھے جس نے میرے چمپین سے میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں میرے بال و پر میں وہ بہت ہو پیدا کہ لے کہ قفس کو اڑا چاہتا ہوں