جوئے شیریں

by Other Authors

Page 47 of 107

جوئے شیریں — Page 47

بلند پروازی کی ترغیب میں اپنے پیاروں کی نسبت ہر گز نہ کرونگا پسند کبھی وہ چھوٹے درجہ پر راضی ہوں اور انکی نگاہ رہے نیچی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشیروں کی طرح سفر آتے ہوں ادنی سا تصور اگر دیکھیں تو منہ میں کف بھر لاتے ہوں وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر امید لگائے بیٹھے ہوں وہ اوئی اوئی خوشی کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں شمشیر زباں سے گھر بیٹھے دیمن کو مارے جاتے ہوں میدان عمل کا نام بھی تو تو جھینپتے ہوں گھیراتے ہوں اے میری الفت کے طالب ! یہ میرے دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا ہے ہے تو اہش میری الفت کی تو اپنی نگاہیں اونچی کر تدبیر کے جھانوں میں مت پھینس کو قبضہ جا کے مقدر پر