جوئے شیریں

by Other Authors

Page 28 of 107

جوئے شیریں — Page 28

وہی آرامیم جاں اور دل کو بھایا و ہی جس کو کہیں رب البر یا ہوا ظاہر وہ مجھ پر بالا میاد منی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَمَادِي مجھے اس یار سے پیوند جای ہے وہی حینت وہی دار الاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْإِمَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی اُٹھو ڈھونڈو متنارع آسمانی کرد کچھ فکر ملک جاودانی یہ ملک و مال ہے جھوٹی کہانی خدا نے اپنی راہ مجھ کو بتادی فَسُبْحَانَ الزِي اخْرَى الْأَمَادِي